المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمان بن خالد الخزاعي باب: سیدنا سلمان بن خالد خزاعی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ثَابِتُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى صِهْرٍ لَنَا مِنْ أَسْلَمَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَرِحْنَا بِهَا يَا بِلَالُ الصَّلَاةَ قَالَ: قُلْتُ: أَسَمِعْتَ ذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَغَضِبَ وَأَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ يُحَدِّثُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا إِلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ، فَلَمَّا أَتَاهُمْ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ أَحْكُمَ فِي نِسَائِكُمْ بِمَا شِئْتُ، فَقَالُوا: سَمْعًا وَطَاعَةً لِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثُوا رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّ فُلَانًا جَاءَنَا فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ أَحْكُمَ فِي نِسَائِكُمْ بِمَا شِئْتُ، فَإِنْ كَانَ أَمْرَكَ فَسَمْعًا وَطَاعَةً، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ فَأَحْبَبْنَا أَنْ نُعْلِمَكَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَقَالَ: «اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ فَاقْتُلْهُ وأَحْرِقْهُ بِالنَّارِ» ، فَانْتَهَى إِلَيْهِ وَقَدْ مَاتَ وَقُبِرَ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُبِشَ، ثُمَّ أَحَرَقَهُ بِالنَّارِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ: " تَرَانِي كَذَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذَا؟عبداللہ بن محمد ابن الحنفیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ قبیلہ اسلم کے اپنے ایک سسرالی رشتہ دار کے پاس گیا جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، تو میں نے انہیں یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اے بلال! نماز کے ذریعے ہمیں آرام پہنچاؤ۔“ میں نے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟ تو وہ غصے ہو گئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر انہیں بتانے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو عرب کے ایک قبیلے کی طرف بھیجا، جب وہ ان کے پاس پہنچا تو کہنے لگا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہاری عورتوں کے بارے میں جو چاہوں فیصلہ کروں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے حکم کے لیے ہم سنتے اور مانتے ہیں، اور انہوں نے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا اور عرض کیا: فلاں شخص ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا کہ نبی کریم ﷺ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ ہماری عورتوں کے بارے میں جو چاہے فیصلہ کرے، اگر یہ آپ کا حکم ہے تو ہم سنیں گے اور مانیں گے، اور اگر ایسا نہیں ہے تو ہم چاہتے تھے کہ آپ کو بتا دیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کو غصہ آیا، اور آپ نے انصار میں سے ایک شخص کو بھیجا اور فرمایا: ”فلاں کے پاس جاؤ اور اسے قتل کر کے آگ سے جلا دو۔“ وہ شخص جب اس کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو کر دفن ہو چکا تھا، تو اس نے حکم دیا اور اس کی قبر کھودی گئی، پھر اس نے اسے آگ سے جلا دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کے بعد بھی میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھوں گا؟