المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمان بن عامر الضبي رضي الله عنه كان ينزل البصرة وبها مات باب: سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ، بصرہ میں رہتے تھے اور وہیں وفات پائی
حدیث نمبر: 6187
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ العَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا نَعَامَةُ الْعَدَوِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ، ويَفِي بِالذِّمَّةِ، قَالَ: «وَلَمْ يُدْرِكِ الْإِسْلَامَ؟» قَالَ: لَا، فَلَمَّا وَلَّيْتُ، قَالَ: «عَلَيَّ بِالشَّيْخِ» ، قَالَ: «يَكُونُ ذَلِكَ فِي عَقِبِكَ، فَلَنْ يَذِلُّوا أَبَدًا، وَلَنْ يَفْقُرُوا أَبَدًا»ترجمہ
سیدنا سلمان بن عامر الضبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے والد صلہ رحمی کرتے تھے، مہمان نوازی کرتے تھے، اور عہد پورا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا وہ اسلام نہیں پا سکے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ جب میں پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بزرگ کو میرے پاس لاؤ۔“ پھر فرمایا: ”یہ بھلائی تمہاری اولاد میں جاری رہے گی، وہ کبھی ذلیل نہیں ہوں گے اور کبھی محتاج نہیں ہوں گے۔“