المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الأزهر، مدني، عن سلمان رضي الله عنه باب: ابوازہر، مدنی، کی سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ، عَنْ سَلْمَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَعُودُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبِينِهِ فَقَالَ: «كَيْفَ تَجِدُكَ؟» ، فَلَمْ يُحِرْ إِلَيْهِ شَيْئًا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ عَنْكَ مَشْغُولٌ، فَقَالَ: «خَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَهُ» ، فَخَرَجَ النِّسَاءُ مِنْ عِنْدِهِ، وَتَرَكُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، وَأَشَارَ الْمَرِيضُ أَنْ أَعِدْ يَدَكَ حَيْثُ كَانَتْ، ثُمَّ نَادَى: «يَا فُلَانُ مَا تَجِدُ؟» ، قَالَ: أَجِدُ خَيْرًا، وَقَدْ حَضَرَنِي اثْنَانِ أَحَدُهُمَا أَسْوَدُ وَالْآخَرُ أَبْيَضُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّهُمَا أَقْرَبُ مِنْكَ؟» قَالَ: الْأَسْوَدُ، قَالَ: «إِنَّ الْخَيْرَ قَلِيلٌ وَإِنَّ الشَّرَّ كَثِيرٌ» ، قَالَ: فَمَتِّعْنِي مِنْكَ يَا رَسُولَ اللهِ بِدَعْوَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اغْفِرِ الْكَثِيرَ وَأَنْمِ الْقَلِيلَ» ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَرَى؟» ، قَالَ: خَيْرًا بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، الْخَيْرُ يَنْمُو وَأَرَى الشَّرَّ يَضْمَحِلُّ، وَقَدِ اسْتَأْخَرَ مِنِّي الْأَسْوَدُ، قَالَ: «أَيُّ عَمَلِكَ كَانَ أَمْلَكُ بِكَ؟» ، قَالَ: كُنْتُ أَسْقِي الْمَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْمَعْ يَا سَلْمَانُ هَلْ تُنْكِرُ مِنِّي شَيْئًا؟» قَالَ: نَعَمْ بِأَبِي وَأُمِّي، قَدْ رَأَيْتُكَ فِي مَوَاطِنَ فَمَا رَأَيْتُكَ عَلَى مِثْلِ حَالِكَ الْيَوْمَ، قَالَ: «إِنِّي أَعْلَمُ مَا يَلْقَى، مَا مِنْهُ عِرْقٌ إِلَّا وَهُوَ الْمَوْتُ عَلَى حِدَتِهِ»سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انصار میں سے ایک شخص کی عیادت کے لیے نکلے، جب اس کے پاس تشریف لے گئے تو اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھا اور پوچھا: ”تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟“ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ آپ سے جواب دینے سے مشغول ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس کے ساتھ چھوڑ دو۔“ چنانچہ عورتیں اس کے پاس سے چلی گئیں اور رسول اللہ ﷺ کو اس کے ساتھ چھوڑ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو مریض نے اشارہ کیا کہ اپنا ہاتھ وہیں دوبارہ رکھ دیں، پھر آپ ﷺ نے آواز دی: ”اے فلاں! تم کیا پا رہے ہو؟“ اس نے کہا: میں بھلائی پا رہا ہوں، اور میرے پاس دو ہستیاں حاضر ہوئی ہیں، ایک سیاہ اور ایک سفید۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”ان میں سے کون تم سے زیادہ قریب ہے؟“ اس نے کہا: سیاہ والا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلائی کم ہے اور برائی زیادہ ہے۔“ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اپنی ایک دعا سے فائدہ پہنچائیے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! زیادہ کو بخش دے اور کم کو بڑھا دے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”اب تم کیا دیکھ رہے ہو؟“ اس نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، بھلائی، میں دیکھ رہا ہوں کہ بھلائی بڑھ رہی ہے اور برائی ختم ہو رہی ہے، اور سیاہ والا مجھ سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا کون سا عمل تمہارے سب سے زیادہ کام آیا؟“ اس نے کہا: میں لوگوں کو پانی پلایا کرتا تھا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سنو اے سلمان! کیا تم مجھ میں کوئی تبدیلی محسوس کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ کو کئی مواقع پر دیکھا ہے مگر آج جیسی حالت میں کبھی نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے کہ اسے کیا تکلیف پیش آ رہی ہے، اس کی ہر رگ الگ الگ موت کا سامنا کر رہی ہے۔“