❮
❯
حدیث نمبر: 6161
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثنا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَقَّاصِ، حَدَّثَنِي سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَالَ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ خِلَالِ الْمُنَافِقِ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا ائْتُمِنَ خَانَ "، فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا ثَقِيلَانِ، فَلَقِيتُهُمَا، فَقُلْتُ: مَا لِي أَرَاكُمَا ثَقِيلَيْنِ؟، قَالَا: حَدِيثًا سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مِنْ خِلَالِ الْمُنَافِقِ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا ائْتُمِنَ خَانَ " قَالَ: أَفَلَا سَأَلْتُمَاهُ؟ قَالَ: هِبْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: لَكِنِّي سَأَسْأَلُهُ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: لَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَهُمَا ثَقِيلَانِ ثُمَّ ذَكَرْتُ مَا قَالَا، فَقَالَ: «قَدْ حَدَّثْتُهُمَا وَلَمْ أَضَعْهُ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي يَضَعَانِهِ، وَلَكِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا حَدَّثَ وَهُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ أَنَّهُ يَكْذِبُ، وَإِذَا وَعَدَ وَهُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ أَنَّهُ يُخْلِفُ، وَإِذَا ائْتُمِنَ وَهُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ أَنَّهُ يَخُونُ»
ترجمہ

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”منافق کی خصلتوں میں سے یہ ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔“ پھر وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے بوجھل دل کے ساتھ نکلے، میں ان سے ملا تو میں نے کہا: کیا بات ہے، میں آپ دونوں کو بوجھل دل دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: ایک حدیث کی وجہ سے جو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”منافق کی خصلتوں میں سے یہ ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔“ میں نے کہا: تو کیا آپ دونوں نے آپ ﷺ سے پوچھا نہیں؟ انہوں نے کہا: ہم پر رسول اللہ ﷺ کی ہیبت طاری رہی۔ میں نے کہا: لیکن میں آپ ﷺ سے ضرور پوچھوں گا، چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ملے، وہ دونوں بوجھل دل تھے، پھر میں نے وہ بات ذکر کی جو انہوں نے کہی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے انہیں وہ بات بتائی تھی، مگر جس مفہوم میں وہ لے رہے ہیں اس مفہوم میں نہیں بتائی تھی، بلکہ منافق جب بات کرتا ہے تو اپنے دل میں یہ سوچتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، اور جب وعدہ کرتا ہے تو اپنے دل میں یہ سوچتا ہے کہ وہ اسے پورا نہیں کرے گا، اور جب اسے امانت دی جائے تو اپنے دل میں یہ سوچتا ہے کہ وہ خیانت کرے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6161
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 270، حدیث 6186