❮
❯
حدیث نمبر: 6127
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا حَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: صَلَّى بِنَا سَلْمَانُ صَلَاةً، ثُمَّ قَامَ إِلَى غُصْنِ شَجَرَةٍ يَابِسَةٍ فَحَرَّكَهَا فَتَحَاتَّ وَرَقُهَا، ثُمَّ قَالَ: تَدْرُونَ لِمَ فَعَلْتُ هَذَا؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً، ثُمَّ قَامَ إِلَى غُصْنِ شَجَرَةٍ يَابِسَةٍ فَحَرَّكَهَا فَتَحَاتَّ وَرَقُهَا، فَقَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى فَأَحْسَنَ الصَّلَاةَ تَحَاتَّتْ ذُنُوبُهُ كَمَا يَتَحَاتُّ وَرَقُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ» ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَبْدَانَ
ترجمہ

ابوعثمان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، پھر ایک خشک درخت کی ٹہنی کی طرف کھڑے ہوئے اور اسے ہلایا تو اس کے پتے جھڑ گئے، پھر فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو میں نے ایسا کیوں کیا؟“ لوگوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، پھر ایک خشک درخت کی ٹہنی کی طرف کھڑے ہوئے اور اسے ہلایا تو اس کے پتے جھڑ گئے، پھر فرمایا: ’بندہ جب وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے اور اچھی طرح نماز پڑھے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔‘“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ عبدان کی روایت کے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6127
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 257، حدیث 6152