حدیث نمبر: 6126
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، ثُمَّ قَالَ: سَلْنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا؟ فَقُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُنْتُ مَعَهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا يَابِسًا، فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا يَا سَلْمَانُ؟» فَقُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُهُ؟ فَقَالَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا تَوَضَّأَ، فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ تَحَاتَّتْ خَطَايَاهُ، كَمَا تَحَاتَّ هَذَا الْوَرَقُ» ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} [هود: ١١٤]
ترجمہ

(سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے پوچھا:) میں ایسا کیوں کرتا ہوں؟ میں نے عرض کیا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا، میں ان کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا، تو آپ ﷺ نے اس کی خشک ٹہنیوں میں سے ایک ٹہنی پکڑی اور اسے ہلایا یہاں تک کہ اس کے پتے جھڑ گئے، پھر فرمایا: ”اے سلمان! کیا تم مجھ سے نہیں پوچھتے کہ میں ایسا کیوں کرتا ہوں؟“ میں نے عرض کیا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ فرمایا: ”مسلمان جب وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر پانچوں نمازیں پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے یہ پتے جھڑے ہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں، یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔“ [سورۃ ہود: 114]

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6126
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 257، حدیث 6151