حدیث نمبر: 6088
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللهُ، ثنا هِشَامُ بْنُ لَاحِقٍ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: اسْتَأْذَنَتِ الْحُمَّى عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: «مَنْ أَنْتِ؟» قَالَتْ: أَنَا الْحُمَّى أَبْرِي اللَّحْمَ، وأَمُصُّ الدَّمَ، قَالَ: «اذْهَبِي إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ» فَأَتَتْهُمْ، فَجَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدِ اصْفَرَّتْ وُجُوهُهُمْ، فَشَكَوُا الْحُمَّى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا شِئْتُمْ، إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللهَ فَدَفَعَهَا عَنْكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُمُوهَا فَأَسْقَطَتْ بَقِيَّةَ ذُنُوبِكُمْ» ، قَالُوا: بَلْ تَدَعُهَا يَا رَسُولَ اللهِ
ترجمہ

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بخار نے رسول اللہ ﷺ سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ اس نے کہا: میں بخار ہوں، گوشت گھلاتی ہوں اور خون چوستی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ قباء کے پاس چلی جاؤ۔“ چنانچہ وہ ان کے پاس چلی گئی۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے جبکہ ان کے چہرے زرد پڑ چکے تھے، اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بخار کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جیسے تم چاہو، اگر چاہو تو میں اللہ سے دعا کروں کہ وہ اسے تم سے دور کر دے، اور اگر چاہو تو اسے رہنے دو تاکہ وہ تمہارے باقی گناہ گرا دے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بلکہ آپ اسے رہنے ہی دیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6088
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 246، حدیث 6113