المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الطفيل عامر بن واثلة، عن سلمان رضي الله عنه باب: ابوطفیل عامر بن واثلہ کی سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو حَبِيبٍ يَحْيَى بْنُ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، ثنا السَّلْمُ بْنُ الصَّلْتِ الْعَبْدِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ الْبَكْرِيِّ، أَنَّ سَلْمَانَ الْخَيْرِ حَدَّثَهُ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ جَيٍّ، مَدِينَةِ أَصْبَهَانَ، فَبَيْنَا أَنَا إِذْ أَلْقَى اللهُ فِي قَلْبِي مِنْ حَقِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَجُلٍ لَمْ يَكُنْ يُكَلِّمُ النَّاسَ يَتَحَرَّجُ، فَسَأَلْتُهُ: أَيُّ الدِّينِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: مَا لَكَ وَلِهَذَا الْحَدِيثِ؟ أَتُرِيدُ دِينًا غَيْرَ دِينِ أَبِيكَ؟ قُلْتُ: لَا، وَلَكِنْ أُحِبُّ أَنْ أَعْلَمَ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَأَيُّ دِينٍ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَا أَعْلَمُ أَحَدًا عَلَى هَذَا غَيْرَ رَاهِبٍ بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: فَذَهَبْتُ إِلَيْهِ وَكُنْتُ عِنْدَهُ، فَإِذَا هُوَ قَدْ أُقْتِرَ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا، فَكَانَ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ، فَكُنْتُ أَعْبُدُ كَعِبَادَتِهِ، فَلَبِثْتُ عِنْدَهُ ثَلَاثَ سِنِينَ، ثُمَّ تُوُفِّيَ، فَقُلْتُ: إِلَى مَنْ تُوصِي بِي؟ فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْمَشْرِقِ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ، فَعَلَيْكَ بِرَاهِبٍ وَرَاءَ الْجَزِيرَةِ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ، قَالَ: فَجِئْتُهُ وَأَقْرَأْتُهُ السَّلَامَ، وَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ قَدْ تُوُفِّيَ، فَمَكَثْتُ أَيْضًا عِنْدَهُ ثَلَاثَ سِنِينَ، ثُمَّ تُوُفِّيَ، فَقُلْتُ: إِلَى مَنْ تَأْمُرُنِي أَنْ أَذْهَبَ؟ قَالَ: مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ غَيْرَ رَاهِبٍ بِعَمُّورِيَّةَ شَيْخٍ كَبِيرٍ، وَمَا أَرَى تَلْحَقُهُ أَمْ لَا، فَذَهَبْتُ إِلَيْهِ، وَكُنْتُ عِنْدَهَ، فَإِذَا رَجُلٌ مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قُلْتُ لَهُ: أَيْنَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَذْهَبَ؟ قَالَ: مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ، لَكِنْ إِنْ أَدْرَكْتَ زَمَانًا يُسْمَعُ بِرَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا أَرَاكَ تُدْرِكُهُ، وَقَدْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُدْرِكَهُ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مَعَهُ فَافْعَلْ، فَإِنَّهُ عَلَى الدِّينِ، وأَمَارَةُ ذَلِكَ أَنَّ قَوْمَهُ يَقُولُونَ: سَاحِرٌ مَجْنُونٌ كَاهِنٌ، وَأَنَّهُ يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ، وَلَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، وَأَنَّ عِنْدَ غُرْضُوفِ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ، وَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ حَتَّى أَتَتْ عِيرٌ مِنْ نَحْوِ الْمَدِينَةِ فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَنَحْنُ قَوْمٌ تُجَّارٌ نَعِيشُ بِتِجارَتِنَا، وَلَكِنَّهُ قَدْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا، وَقَوْمُهُ يُقَاتِلُونَهُ، وَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَحُولَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ تِجَارَتِنَا، وَلَكِنَّهُ قَدْ مَلَكَ الْمَدِينَةَ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا يَقُولُونَ فِيهِ؟ قَالُوا: يَقُولُونَ سَاحِرٌ، مَجْنُونٌ، كَاهِنٌ، فَقُلْتُ: هَذِهِ الْأَمَارَةُ، دُلُّونِي عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَجِئْتُهُ فَقُلْتُ: تَحْمِلُنِي إِلَى الْمَدِينَةِ؟ قَالَ: مَا تُعْطِينِي؟ قُلْتُ: مَا أَجِدُ شَيْئًا أُعْطِيكَ، غَيْرَ أَنِّي لَكَ عَبْدٌ، فَحَمَلَنِي، فَلَمَّا قَدِمْتُ جَعَلَنِي فِي نَخْلِهِ، فَكُنْتُ أَسْقِي كَمَا يَسْقِي الْبَعِيرُ حَتَّى دَبُرَ ظَهْرِي وَصَدْرِي مِنْ ذَلِكَ، وَلَا أَجِدُ أَحَدًا يَفْقَهُ كَلَامِي، حَتَّى جَاءَتْ عَجُوزٌ فَارِسِيَّةٌ تَسْقِي، فَكَلَّمْتُهَا فَفَهِمَتْ كَلَامِي، فَقُلْتُ لَهَا: أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِي خَرَجَ دُلَّنِي عَلَيْهِ؟ قَالَتْ: سَيَمُرُّ عَلَيْكَ بُكْرَةً إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، فَخَرَجْتُ فَجَمَعْتُ تَمْرًا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ جِئْتُ فَقَرَّبَتُ إِلَيْهِ التَّمْرَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا، صَدَقَةٌ أَمْ هَدِيَّةٌ؟» فَأَشَرْتُ أَنَّهُ صَدَقَةٌ، قَالَ: «انْطَلِقْ إِلَى هَؤُلَاءِ» وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ، فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ، فَقُلْتُ: هَذِهِ الْإِمَارَةُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ جِئْتُ بِتَمْرٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقُلْتُ: هَذِهِ هَدِيَّةٌ، فَأَكَلَ وَدَعَا أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا، ثُمَّ رَآنِي أَتَعَرَّضُ لَأَنْظُرَ إِلَى الْخَاتَمِ، فَعَرَفَ فَأَلْقَى رِدَاءَهُ، فَأَخَذْتُ أُقَلِّبُهُ وَأَلْتَزِمُهُ، فَقَالَ: «مَا شَأْنُكَ؟» ، فَسَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي، فَقَالَ: «اشْتَرَطْتَ لَهُمْ أَنَّكَ عَبْدٌ، اشْتَرِ نَفْسَكَ مِنْهُمْ» ، فَاشْتَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجِيءَ لَهُمْ بِمائَةِ نَخْلَةٍ وَأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ، ثُمَّ هُوَ حُرٌّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْرِسْ» فَغَرَسَ، ثُمَّ انْطَلِقْ فَأَلْقِ الدَّلْوَ عَلَى الْبِئْرِ، ثُمَّ لَا تَرْفَعْهُ حَتَّى يَرْتَفِعَ، فَإِنَّهُ إِذَا امْتَلَأَ ارْتَفَعَ، ثُمَّ رُشَّ فِي أُصُولِهَا، فَفَعَلَ فَنَبَتَ النَّخْلُ أَسْرَعَ النَّبَاتِ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، مَا رَأَيْنَا مِثْلَ هَذَا الْعَبْدِ، إِنَّ لِهَذَا الْعَبْدِ شَأْنًا فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِبْرًا، فَإِذَا فِيهِ أَرْبَعُونَ أُوقِيَّةًسیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... میں نے اس عورت سے پوچھا: وہ شخص جو نکلا تھا اور جس کے بارے میں تم نے بتایا تھا، وہ کہاں ہے، مجھے اس کی طرف رہنمائی کرو۔ اس نے کہا: وہ صبح سویرے، فجر کی نماز پڑھنے کے بعد، دن کے شروع میں تمہارے پاس سے گزرے گا۔ چنانچہ میں نکلا اور کچھ کھجوریں جمع کیں۔ جب صبح ہوئی تو میں آیا اور اس کے سامنے کھجوریں پیش کیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے، صدقہ ہے یا ہدیہ؟“ میں نے اشارہ کیا کہ یہ صدقہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں ان لوگوں کی طرف لے جاؤ“ - جبکہ آپ ﷺ کے صحابہ آپ کے پاس تھے - تو انہوں نے کھایا اور آپ ﷺ نے نہ کھایا۔ میں نے دل میں کہا: یہ ایک نشانی ہے۔ اگلے دن میں پھر کھجوریں لے کر آیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ ہدیہ ہے۔ آپ ﷺ نے کھایا اور اپنے صحابہ کو بلایا تو انہوں نے بھی کھایا۔ پھر آپ ﷺ نے دیکھا کہ میں آپ کے گرد گھوم کر مہرِ نبوت دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں، تو آپ سمجھ گئے اور اپنی چادر ہٹا دی۔ میں اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا اور اس سے چمٹ گیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا تو میں نے آپ کو اپنا حال بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے ان کے ساتھ یہ شرط رکھی تھی کہ تم غلام ہو، اپنے آپ کو ان سے خرید لو۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے میرے لیے یہ سودا کیا کہ میں ان کے لیے سو کھجور کے پودے اور چالیس اوقیہ سونا لاؤں، پھر میں آزاد ہو جاؤں گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پودے لگاؤ۔“ چنانچہ میں نے لگائے۔ پھر جاؤ اور ڈول کنویں میں ڈالو، پھر اسے اس وقت تک اوپر نہ کھینچو جب تک وہ خود اوپر اٹھنے نہ لگے، کیونکہ جب وہ بھر جاتا ہے تو اوپر اٹھنے لگتا ہے، پھر اسے پودوں کی جڑوں میں چھڑک دو۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا تو کھجور کے پودے نہایت تیزی سے اگ آئے۔ میرے مالک نے کہا: سبحان اللہ! ہم نے اس غلام جیسا کوئی نہیں دیکھا، بیشک اس غلام کی کوئی خاص شان ہے۔ چنانچہ لوگ اس پر جمع ہو گئے۔ نبی کریم ﷺ نے مجھے سونے کا ایک ٹکڑا دیا تو اس میں چالیس اوقیہ نکلا۔