❮
❯
حدیث نمبر: 6048
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَلْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، ثنا عُبَيْدٌ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ، حَدَّثَنِي سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ جَيٍّ، وَكَانَ أَهْلُ قَرْيَتِي يَعْبُدُونَ الْخَيْلَ الْبُلْقَ، وَكُنْتُ أَعْرِفُ أَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ، فَقِيلَ لِي: إِنَّ الدِّينَ الَّذِي تَطْلُبُ، إِنَّمَا هُوَ بِالْمَغْرِبِ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَوْصِلَ، فَسَأَلْتُ عَنْ أَفْضَلِ رَجُلٍ فِيهَا، فَدُلِلْتُ عَلَى رَجُلٍ فِي صَوْمَعَةٍ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ جَيٍّ، وَإِنِّي جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ وَأَتَعَلَّمُ، فَضُمَّنِي إِلَيْكَ أَخْدُمُكَ وأَصْحَبُكَ، وتُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَكَ اللهُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَصَحِبْتُهُ، فَأَجْرَى عَلَيَّ مِثْلَ مَا كَانَ يُجْرِي عَلَيْهِ الْخَلَّ وَالزَّيْتَ وَالْحُبُوبَ، فَلَمْ أَزَلْ مَعَهُ حَتَّى نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ، فَجَلَسْتُ عِنْدَ رَأْسِهِ أَبْكِيهِ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قُلْتُ: يُبْكِينِي أَنِّي خَرَجْتُ مِنْ بِلَادٍ أَطْلُبُ الْخَيْرَ، فَرَزَقَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَصَحِبْتُكَ فَعَلَّمْتَنِي، وَأَحْسَنْتَ صُحْبَتِي، فَنَزَلَ بِكَ الْمَوْتُ، وَلَا أَدْرِي أَيْنَ أَذْهَبُ، قَالَ لِي: أَخٌ بِالْجَزِيرَةِ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَهُوَ عَلَى الْحَقِّ فَائْتِهِ، فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُ أَنِّي أَوْصَيْتُ إِلَيْهِ وأَوْصَيْتُكَ بِصُحْبَتِهِ، قَالَ: فَلَمَّا أَنْ قُبِضَ الرَّجُلُ خَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الرَّجُلَ الَّذِي وَصَفَ لِي، فَأَخْبَرْتُهُ بِالْخَبَرِ، وَأَقْرَأْتُهُ السَّلَامَ مِنْ صَاحِبِهِ، وَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ هَلَكَ وَأَمَرَنِي بِصُحْبَتِهِ، قَالَ: فَلَمَّا أَنْ قُبِضَ الرَّجُلُ خَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الرَّجُلَ الَّذِي وَصَفَ لِي، فَأَخْبَرْتُهُ وأَوْفَيْتُهُ السَّلَامَ مِنْ صَاحِبِهِ، أَنَّهُ هَلَكَ وَأَمَرَنِي بِصُحْبَتِهِ، قَالَ: فَضَمَّنِي إِلَيْهِ، وَأَجْرَى عَلَيَّ كَمَا كَانَ يُجْرَى عَلَيَّ مَعَ الْآخَرِ، فَصَحِبْتُهُ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ، فَلَمَّا أَنْ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ جَلَسْتُ عِنْدَ رَأْسِهِ أَبْكِي، فَقَالَ لِي: مَا يُبْكِيكَ؟ قُلْتُ: خَرَجْتُ مِنْ بِلَادِي أَطْلُبُ الْخَيْرَ، فَرَزَقَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ صُحْبَةَ فُلَانٍ، فَأَحْسَنَ صُحْبَتِي وَعَلَّمَنِي، فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ أَوْصَى بِي إِلَيْكَ فَضَمَمْتَنِي، وَأَحْسَنْتَ صُحْبَتِي، وَعَلَّمْتَنِي، وَقَدْ نَزَلَ بِكَ الْمَوْتُ، فَلَا أَدْرِي أَيْنَ أَتَوَجَّهُ؟ قَالَ: فَائْتِ أَخًا لِي عَلَى قُرْبِ الرُّومِ، فَهُوَ عَلَى الْحَقِّ فَائْتِهِ، وَاقْرِأْهُ مِنِّي السَّلَامَ واصْحَبْهُ، فَإِنَّهُ عَلَى الْحَقِّ، فَلَمَّا قُبِضَ الرَّجُلُ خَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِي، وبِوَصِيَّةِ الْآخَرِ قَبْلَهُ، قَالَ: فَضَمَّنِي إِلَيْهِ، وَأَجْرَى عَلَيَّ كَمَا يُجْرَى عَلَيَّ، فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ، جَلَسْتُ أَبْكِي عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لِي: مَا يُبْكِيكَ؟ فَقَصَصْتُ قِصَّتِي، قُلْتُ لَهُ: إِنَّ اللهَ رَزَقَنِي صُحْبَتَكَ، وَأَحْسَنْتَ صُحْبَتِي، وَقَدْ نَزَلَ بِكَ الْمَوْتُ، فَلَا أَدْرِي أَيْنَ أَتَوَجَّهُ؟ قَالَ: لَا أَيْنَ، مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُهُ عَلَى دِينِ عِيسَى فِي الْأَرْضِ، وَلَكِنْ هَذَا أَوَانٌ يَخْرُجُ فِيهِ نَبِيٌّ، أَوْ قَدْ خَرَجَ بِتِهَامَةَ فَأَنْتَ عَلَى الطَّرِيقِ لَا يَمُرُّ بِكَ أَحَدٌ إِلَّا سَأَلْتَهُ عَنْهُ، وَإِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ خَرَجَ فَائْتِهِ، فَإِنَّهُ النَّبِيُّ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمَ النُّبُوَّةِ، وَأَنَّهُ يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ، وَلَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، قَالَ: فَكَانَ لَا يَمُرُّ بِي أَحَدٌ إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَمَرَّ بِي نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَسَأَلْتُهُمْ، فَقَالُوا: نَعَمْ قَدْ ظَهْرَ فِينَا رَجُلٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ: هَلْ لَكُمْ إِلَى أَنْ أَكُونَ عَبْدًا لِبَعْضِكُمْ عَلَى أَنْ تَحْمِلُونِي عُقْبَةً، وتُطْعِمُونِي مِنَ الْكِسَرِ، فَإِذَا بَلَغْتُمْ إِلَى بِلَادِكُمْ، فَإِنْ شَاءَ أَنْ يَبِيعَ بَاعَ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَسْتَعْبِدَ اسْتَعْبَدَ، فَقَالَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: أَنَا، فَصِرْتُ عَبْدًا لَهُ حَتَّى قَدِمَ بِي مَكَّةَ، فَجَعَلَنِي فِي بُسْتَانٍ لَهُ مَعَ حُبْشَانٍ كَانُوا فِيهِ، فَخَرَجْتُ وَسَأَلْتُ، فَلَقِيتُ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ بِلَادِي فَسَأَلْتُهَا، فَإِذَا أَهْلُ بَيْتِهَا قَدْ أَسْلَمُوا، وَقَالَتْ لِي: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجْرِ هُوَ وَأَصْحَابُهُ إِذَا صَاحَ عُصْفُورٌ بِمَكَّةَ، حَتَّى إِذَا أَضَاءَ لَهُمُ الْفَجْرُ تَفَرَّقُوا، فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْبُسْتَانِ فَكُنْتُ أَخْتَلِفُ لَيْلَتِي، فَقَالَ لِي الْحُبْشَانُ: مَا لَكَ؟ فَقُلْتُ: أَشْتَكِي بَطْنِي، قَالَ: وَإِنَّمَا صَنَعْتُ ذَلِكَ لِئَلَّا يَفْقِدُونِي إِذَا ذَهَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ السَّاعَةُ الَّتِي أَخْبَرَتْنِي الْمَرْأَةُ الَّتِي يَجْلِسُ فِيهَا هُوَ وَأَصْحَابُهُ، خَرَجْتُ أَمْشِي حَتَّى رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ مُحْتَبٍ وَأَصْحَابُهُ حَوْلَهُ، فَأَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ، فَعَرَفَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي أُرِيدُ، فَأَرْسَلَ حَبْوَتَهُ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقُلْتُ: اللهُ أَكْبَرُ، هَذِهِ وَاحِدَةٌ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلَةُ الْمُقْبِلَةُ لَقَطْتُ تَمْرًا جَيِّدًا، ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قُلْتُ هُوَ هَدِيَّةٌ، فَأَكَلَ مِنْهَا، وَقَالَ لِلْقَوْمِ: «كُلُوا» ، قَالَ: قُلْتُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، فَسَأَلَنِي عَنْ أَمْرِي، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَاشْتَرِ نَفْسَكَ» ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى صَاحِبِي، فَقُلْتُ: بِعْنِي نَفْسِي؟ قَالَ: نَعَمْ، عَلَى أَنْ تُنْبِتَ لِي مِائَةَ نَخْلَةٍ، فَإِذَا أَنْبَتَتْ جِئْنِي بِوَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْتَرِ نَفْسَكَ بِالَّذِي سَأَلَكَ وَائْتِنِي بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ الْبِئْرِ الَّذِي كُنْتَ تَسْقِي مِنْهَا ذَلِكَ النَّخْلَ» ، قَالَ: فَدَعَا لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، ثُمَّ سَقَيْتُهَا فَوَاللهِ لَقَدْ غَرَسْتُ مِائَةَ نَخْلَةٍ، فَمَا غادَرَتْ مِنْهَا نَخْلَةٌ، إِلَّا نَبَتَتْ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ النَّخْلَ قَدْ نَبَتْنَ، فَأَعْطَانِي قِطْعَةً مِنْ ذَهَبٍ، فَانْطَلَقْتُ بِهَا فَوَضَعْتُهَا فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ، وَوَضَعَ فِي الْجَانِبِ الْآخَرِ نَوَاةً، فَوَاللهِ مَا اسْتَقَلَّتِ الْقِطْعَةُ الذَّهَبُ مِنَ الْأَرْضِ، قَالَ: وَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأَعْتَقَنِي
ترجمہ

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں جَے کا رہنے والا ایک شخص تھا، اور میرے گاؤں کے لوگ چتکبرے گھوڑوں کی پوجا کیا کرتے تھے۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ کسی حق پر نہیں ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ جس دین کی تم تلاش میں ہو وہ مغرب میں ہے۔ چنانچہ میں نکل کھڑا ہوا یہاں تک کہ موصل پہنچا۔ میں نے وہاں کے سب سے بہتر شخص کے بارے میں پوچھا تو مجھے ایک آدمی کی طرف رہنمائی کی گئی جو ایک صومعہ (عبادت خانے) میں رہتا تھا۔ میں اس کے پاس گیا اور اس سے کہا: میں جَے کا رہنے والا ایک شخص ہوں، اور میں علم کی تلاش اور سیکھنے کے لیے آیا ہوں، مجھے اپنے ساتھ رکھ لو، میں تمہاری خدمت اور معیت اختیار کروں گا اور تم مجھے وہ سکھاؤ جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ میں اس کی صحبت میں رہنے لگا، وہ مجھے اتنا ہی (کھانا) دیتا جتنا خود لیتا، یعنی سرکہ، تیل اور اناج۔ میں اس کے ساتھ رہا یہاں تک کہ اسے موت آ گئی۔ میں اس کے سرہانے بیٹھ کر رونے لگا۔ اس نے کہا: تمہیں کیا رلا رہا ہے؟ میں نے کہا: مجھے یہ بات رلا رہی ہے کہ میں اپنے وطن سے خیر کی تلاش میں نکلا تھا، اللہ عزوجل نے مجھے تمہاری صحبت نصیب کی، تم نے مجھے سکھایا اور میرے ساتھ اچھا برتاؤ کیا، اب تمہیں موت آ گئی ہے اور مجھے معلوم نہیں کہاں جاؤں۔ اس نے کہا: میرا ایک بھائی جزیرہ (میں) فلاں جگہ ہے، وہ حق پر ہے، اس کے پاس جانا، اسے میری طرف سے سلام کہنا اور بتانا کہ میں نے اسے وصیت کی ہے اور تمہیں اس کی صحبت اختیار کرنے کی وصیت کی ہے۔

جب وہ آدمی وفات پا گیا تو میں نکل کھڑا ہوا یہاں تک کہ اس آدمی کے پاس پہنچا جس کی اس نے صفت بتائی تھی۔ میں نے اسے (پہلے شخص کی وفات کی) خبر دی اور اپنے ساتھی کی طرف سے سلام پہنچایا اور بتایا کہ وہ فوت ہو چکا ہے اور اس نے مجھے اس کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس نے مجھے اپنے ساتھ رکھ لیا اور اتنا ہی (کھانا) دیتا جتنا دوسرے (شخص کے ہاں) ملتا تھا۔ میں اس کی صحبت میں رہا جب تک اللہ نے چاہا، پھر اسے موت آ گئی۔ جب اسے موت آنے لگی تو میں اس کے سرہانے بیٹھ کر رونے لگا۔ اس نے کہا: تمہیں کیا رلا رہا ہے؟ میں نے کہا: میں اپنے وطن سے خیر کی تلاش میں نکلا تھا، اللہ عزوجل نے مجھے فلاں کی صحبت نصیب کی، اس نے مجھ سے اچھا برتاؤ کیا اور مجھے سکھایا، پھر جب اسے موت آئی تو اس نے مجھے تمہاری وصیت کی اور تم نے مجھے اپنے ساتھ رکھ لیا اور مجھ سے اچھا برتاؤ کیا اور مجھے سکھایا، اور اب تمہیں موت آ گئی ہے، مجھے معلوم نہیں کہاں رخ کروں؟ اس نے کہا: روم کے قریب میرے ایک بھائی کے پاس جانا، وہ حق پر ہے، اس کے پاس جانا اور اسے میری طرف سے سلام کہنا اور اس کی صحبت اختیار کرنا، بے شک وہ حق پر ہے۔

جب وہ آدمی وفات پا گیا تو میں نکل کھڑا ہوا یہاں تک کہ اس کے پاس پہنچا، اسے اپنا حال اور اس سے پہلے والے کی وصیت بتائی۔ اس نے مجھے اپنے ساتھ رکھ لیا اور اتنا ہی (کھانا) دیتا جتنا مجھے ملتا تھا۔ جب اسے موت آئی تو میں اس کے سرہانے بیٹھ کر رونے لگا۔ اس نے کہا: تمہیں کیا رلا رہا ہے؟ میں نے اپنا قصہ سنایا، اور کہا: اللہ نے مجھے تمہاری صحبت نصیب کی، تم نے مجھ سے اچھا برتاؤ کیا، اور اب تمہیں موت آ گئی ہے، مجھے معلوم نہیں کہاں رخ کروں؟ اس نے کہا: (اب) کہیں نہیں، میں زمین میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو عیسیٰ علیہ السلام کے دین پر باقی رہ گیا ہو، لیکن اب وہ وقت قریب ہے جس میں ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے، یا (شاید کہا) مبعوث ہو چکا ہے، تہامہ میں، تو تم راستے پر رہنا، جو بھی تمہارے پاس سے گزرے اس سے اس کے بارے میں پوچھتے رہنا، اور جب تمہیں معلوم ہو کہ وہ ظاہر ہو چکا ہے تو اس کے پاس چلے جانا، کیونکہ وہ وہی نبی ہے جس کی بشارت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی، اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت ہے، اور وہ ہدیہ کھاتا ہے لیکن صدقہ نہیں کھاتا۔

چنانچہ جو بھی میرے پاس سے گزرتا میں اس سے اس (نبی) کے بارے میں پوچھتا۔ مکہ کے کچھ لوگ میرے پاس سے گزرے تو میں نے ان سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: ہاں، ہمارے ہاں ایک آدمی ظاہر ہوا ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ میں نے ان میں سے کچھ سے کہا: کیا تم مجھے اپنے میں سے کسی کا غلام بنا کر لے چلو گے، اس شرط پر کہ تم مجھے (سواری پر) ایک منزل تک سوار کراؤ اور مجھے کچھ روٹی کے ٹکڑے کھلاؤ، پھر جب تم اپنے وطن پہنچو تو اگر چاہو بیچ دو اور اگر چاہو غلام بنائے رکھو۔ ان میں سے ایک آدمی نے کہا: میں (لے چلوں گا)۔ چنانچہ میں اس کا غلام بن گیا یہاں تک کہ وہ مجھے مکہ لے آیا۔ اس نے مجھے اپنے ایک باغ میں کچھ حبشیوں کے ساتھ رکھ دیا جو وہاں پہلے سے تھے۔

میں نکلا اور پوچھ گچھ کی تو مجھے اپنے وطن کی ایک عورت ملی۔ میں نے اس سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ اس کے گھر والے اسلام لا چکے ہیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ حِجر میں ہوتے ہیں جب مکہ میں چڑیا چہچہاتی ہے، یہاں تک کہ جب ان کے لیے فجر روشن ہو جاتی ہے تو وہ منتشر ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ میں باغ کی طرف چلا گیا اور رات کو (وہاں) آتا جاتا رہا۔ حبشیوں نے مجھ سے کہا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: میرے پیٹ میں تکلیف ہے۔ میں نے یہ اس لیے کیا تاکہ جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں تو وہ مجھے گم نہ پائیں۔

جب وہ وقت آیا جس کا اس عورت نے مجھے بتایا تھا کہ وہ اور اس کے اصحاب اس میں بیٹھتے ہیں، تو میں چل کر نکلا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ گھٹنے موڑ کر بیٹھے تھے اور آپ کے اصحاب آپ کے اردگرد تھے۔ میں آپ کے پیچھے سے آیا، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچان لیا کہ میں کیا چاہتا ہوں، چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی چادر ڈھیلی چھوڑ دی۔ میں نے آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت دیکھی، میں نے کہا: اللہ اکبر، یہ ایک (نشانی ہوئی)۔ پھر میں واپس چلا گیا۔

جب اگلی رات آئی تو میں نے کچھ عمدہ کھجوریں چن لیں، پھر گیا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور وہ آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: یہ ہدیہ ہے۔ آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا اور لوگوں سے فرمایا: ”کھاؤ“۔ میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے میرے بارے میں پوچھا تو میں نے اپنا حال بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور اپنے آپ کو خرید لو (آزادی کا معاہدہ کر لو)“۔ چنانچہ میں اپنے آقا کے پاس گیا اور کہا: مجھے اپنے سے (آزاد کر کے) بیچ دو؟ اس نے کہا: ٹھیک ہے، اس شرط پر کہ تم میرے لیے سو کھجور کے درخت اگاؤ، جب وہ اگ جائیں تو مجھے ایک کھجور کی گٹھلی کے وزن برابر سونا لا کر دینا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اس نے تم سے مانگا ہے اس کے بدلے اپنے آپ کو خرید لو، اور مجھے اس کنویں کے پانی کا ایک ڈول لا دو جس سے تم اس کھجور کو سیراب کرتے تھے“۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں دعا فرمائی، پھر میں نے اسی سے (کھجوریں) سیراب کیں، اللہ کی قسم! میں نے سو کھجور کے درخت لگائے اور ان میں سے ایک بھی درخت ایسا نہ رہا جو نہ اگا ہو۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بتایا کہ کھجوریں اگ چکی ہیں۔ آپ ﷺ نے مجھے سونے کا ایک ٹکڑا عطا فرمایا۔ میں اسے لے گیا اور ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا اور دوسرے پلڑے میں ایک گٹھلی رکھی گئی، اللہ کی قسم! وہ سونے کا ٹکڑا زمین سے اوپر نہ اٹھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (اور ادائیگی کر دی) تو آپ ﷺ نے مجھے آزاد کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6048
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 228، حدیث 6073