المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمان الفارسي يكنى أبا عبد الله رضي الله عنه " أسلم مقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة، وشغل بالرق، وفاته مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بدرا، وأحدا، وأول مشاهده الخندق، وقد قيل في بعض الروايات: إنه أسلم بمكة، وإسلامه بالمدينة أثبت، والله باب: سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، رسول اللہ ﷺ کی مدینہ آمد کے وقت اسلام لائے، غلامی میں مشغول رہنے کی وجہ سے بدر اور احد میں شریک نہ ہو سکے، ان کا پہلا غزوہ خندق تھا۔ بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ وہ مکہ میں مسلمان ہوئے، لیکن مدینہ میں اسلام لانا زیادہ ثابت شدہ قول ہے، واللہ (متن یہاں ناتمام ہے)
حدیث نمبر: 6029
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: أَصَابَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَارِيَةً، فَقَالَ لَهَا بِالْفَارِسِيَّةِ: «صَلِّي» ، قَالَتْ: لَا، قَالَ: «اسْجُدِي وَاحِدَةً» قَالَتْ: لَا، قِيلَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ، وَمَا تُغْنِي عَنْهَا سَجْدَةٌ؟ قَالَ: «إِنَّهَا لَوْ صَلَّتْ صَلَّتْ، وَلَيْسَ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ»ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ سلمان رضی اللہ عنہ کو ایک لونڈی ملی تو انہوں نے اس سے فارسی زبان میں کہا: ”نماز پڑھو۔“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”ایک سجدہ ہی کر لو۔“ اس نے کہا: نہیں۔ پوچھا گیا: اے ابوعبداللہ! ایک سجدہ اسے کیا فائدہ دے گا؟ فرمایا: ”اگر وہ نماز پڑھ لیتی تو پڑھ لیتی، اور جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو وہ اس جیسا نہیں جس کا کوئی حصہ نہ ہو۔“