❮
❯
حدیث نمبر: 595
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثنا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ إِسْحَاقُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدَ ثَقِيفٍ، فَأُنْزِلْنَا عَلَيْهِ فِي قُبَّةٍ لَهُ، فَنَزَلَ إِخْوَانُنَا مِنَ الْأَحْلَافِ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا بَعْدَ الْعِشَاءِ فَيُحَدِّثُنَا، وَكَانَ أَكْثَرُ حَدِيثِهِ تَشْكِيَةَ قُرَيْشٍ، وَيَقُولُ: «وَلَا سَوَاءٌ كُنَّا بِمَكَّةَ مُسْتَذَلَّينَ مُسْتَضْعَفِينَ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ كَانَتِ الْحَرْبُ سِجَالًا عَلَيْنَا وَلَنَا» فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَطْوَلَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ أَبْطَأْتَ، فَقَالَ: «إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ حِزْبِي مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَخْرُجَ حَتَّى أَقْضِيَهُ» فَسَأَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَزِّبُ الْقُرْآنَ؟ فَقَالُوا: كَانَ يُحَزِّبُهُ ثَلَاثًا، وَخَمْسًا، وَسَبْعًا، وَتِسْعًا، وَإِحْدَى عَشْرَةَ، وَثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَحِزْبَ الْمُفَصَّلِ
ترجمہ

سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ثقیف کے وفد کی صورت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو ہمیں آپ ﷺ کے ایک خیمے میں ٹھہرایا گیا، اور ہمارے حلیف بھائی مغیرہ بن شعبہ کے پاس اترے، تو رسول اللہ ﷺ عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو فرماتے، اور آپ ﷺ کی زیادہ تر گفتگو قریش کی شکایت پر ہوتی، اور آپ ﷺ فرماتے: ”ہم اور وہ برابر نہیں ہیں: ہم مکہ میں ذلیل اور کمزور تھے، پھر جب ہم مدینہ آئے تو جنگ باری باری کبھی ہمارے خلاف چلتی اور کبھی ہمارے حق میں۔“ ایک رات آپ ﷺ کو ہمارے پاس آنے میں دیر ہوئی، اور خاصی دیر ہوئی، تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو دیر ہو گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ پر قرآن کا میرا حزب (روزانہ کا وِرد) باقی رہ گیا تھا، تو میں نے ناپسند کیا کہ اسے پورا کیے بغیر نکلوں۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ قرآن کو کیسے حزبوں میں تقسیم فرماتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ اسے تین، پانچ، سات، نو، گیارہ، تیرہ (سورتوں کے حزبوں) میں اور مفصل کے حزب میں تقسیم فرماتے تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 595
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 220، حدیث 599