حدیث نمبر: 594
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْعَلَّافُ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ سَوَّارٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ إِذْ جَاءَنِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمَلَنِي فَأَدْخَلَنِي جَنَّةَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ إِذْ جُعِلَتْ فِي يَدِي تُفَّاحَةٌ، فَانْفَلَقَتِ التُّفَّاحَةُ بِنِصْفَيْنِ، فَخَرَجَتْ مِنْهَا جَارِيَةٌ لَمْ أَرَ جَارِيَةً أَحْسَنَ مِنْهَا حُسْنًا، وَلَا أَجْمَلَ مِنْهَا جَمَالًا، تُسَبِّحُ تَسْبِيحًا لَمْ يَسْمَعِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ بِمِثْلِهِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتِ يَا جَارِيَةُ؟ قَالَتْ: أَنَا مِنَ الْحُورِ الْعِينِ خَلَقَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ نُورِ عَرْشِهِ. فَقُلْتُ: لِمَنْ أَنْتِ؟ قَالَتْ: لِلْخَلِيفَةِ الْمَظْلُومِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ "
ترجمہ

سیدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں بیٹھا ہوا تھا کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے اٹھایا اور اپنے رب عزوجل کی جنت میں داخل کر دیا، میں وہاں بیٹھا ہی تھا کہ میرے ہاتھ میں ایک سیب رکھا گیا، سیب دو حصوں میں پھٹ گیا اور اس میں سے ایک حور نکلی جیسی خوبصورت اور جمیل حور میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی، وہ ایسی تسبیح پڑھ رہی تھی جیسی نہ پہلوں نے سنی نہ پچھلوں نے۔ میں نے پوچھا: اے حور! تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں حورِ عین میں سے ہوں، اللہ عزوجل نے مجھے اپنے عرش کے نور سے پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا: تم کس کے لیے ہو؟ اس نے کہا: مظلوم خلیفہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے لیے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 594
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 219، حدیث 598