المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب تعظيم قول لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله باب: اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اس کلمے کی عظمت کا بیان
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَوْسًا أَخْبَرَهُ، قَالَ: إِنَّا لَقُعُودٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُصُّ عَلَيْنَا، وَيُذَكِّرُنَا إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبُوا فَاقْتُلُوهُ» فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ، دَعَاهُ، فَقَالَ: «يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبُوا بِهِ فَخَلُّوا سَبِيلَهُ، فَإِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، حُرِّمَ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ، وَأَمْوَالُهُمْ بِحَقِّهَا، وَكَانَ حِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ "…وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے، آپ ﷺ ہمیں قصے سنا رہے تھے اور نصیحت فرما رہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور کانوں میں کچھ کہا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے قتل کر دو۔“ جب وہ شخص مڑا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور اس کا راستہ چھوڑ دو، کیونکہ مجھے صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہیں، جب وہ ایسا کر لیں تو ان کا خون اور مال حق کے ساتھ (ہی چھینا جا سکتا ہے، ورنہ) مجھ پر حرام ہے، اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“