المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن جعفر بن أبي كثير، عن أبي حازم باب: محمد بن جعفر بن ابی کثیر کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا لَقِينَا الْمُشْرِكِينَ قَاتَلْنَاهُمْ حَتَّى تَفَرَّقْنَا، وإِيَّاهُمْ عِنْدَ الْمَسَاءِ، وَكِلَا الْفَرِيقَيْنِ قَدْ أَعْيَى وَتَعِبَ، وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمَلَّ، وَلَمْ يَعْيَ، لَمْ يَتْرُكْ شَاذَّةً وَلَا فَاذَّةً لِلْقَوْمِ إِلَّا قَتَلَهَا، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ صَبْرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: وَاللهِ لَأَكُونَنَّ أَنَا صَاحِبَهُ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَى مَا يَصِيرُ، فَجُرِحَ فَجَزِعَ مِنَ الْمَوْتِ، فَأَخَذَ سَيْفَهُ، فَوَضَعَهُ عَلَى كَبِدِهِ، ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهِ حَتَّى أَنْفَذَهُ مِنْ ظَهْرِهِ، فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ بِطَاعَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ عِنْدَ اللهِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ بِمَعاصِي اللهِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ عِنْدَ اللهِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... اور وہ تھکتا نہ تھا، دشمن میں سے کسی اکیلے یا الگ تھلگ آدمی کو بھی نہ چھوڑتا مگر اسے قتل کر دیتا، لوگ اس کے صبر (ثابت قدمی) پر حیران رہ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جہنمیوں میں سے کسی آدمی کو دیکھنا چاہے وہ اس شخص کو دیکھ لے۔“ اس پر ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کے ساتھ ہی رہوں گا یہاں تک کہ دیکھوں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ زخمی ہو گیا تو موت سے گھبرا اٹھا، اپنی تلوار پکڑی اور اسے اپنے پیٹ پر رکھ کر اس پر اس طرح ٹیک لگائی کہ وہ اس کی پیٹھ سے پار ہو گئی۔ وہ آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک بندہ لوگوں کے سامنے اللہ عزوجل کی اطاعت کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اللہ کے ہاں جہنمیوں میں لکھا جا چکا ہوتا ہے، اور بیشک بندہ لوگوں کے سامنے اللہ کی نافرمانی کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اللہ کے ہاں جنتیوں میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔“