حدیث نمبر: 5768
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا أَبُو غَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «هُشِّمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَومَ أُحُدٍ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَّتُهُ، وَجُرِحَ وَجْهُهُ، فَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ عَنْهُ الدَّمَ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْتِيهَا بِالْمَاءِ، فَلَمَّا أَصَابَ الْجُرْحَ الْمَاءُ، كَثُرَ دَمُهُ فَلَمْ يَرْقَأِ الدَّمُ، حَتَّى أَخَذَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ، فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى عَادَ رَمَادًا، ثُمَّ جَعَلَتْ عَلَى الْجُرْحِ، فَرَقَأَ الدَّمُ»
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے سر پر خود ٹوٹ گیا، آپ ﷺ کا رباعی دانت شہید ہو گیا، اور آپ ﷺ کا چہرہ زخمی ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس سے خون دھوتی تھیں، اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کے پاس پانی لاتے تھے۔ جب زخم پر پانی لگا تو خون اور زیادہ بہنے لگا اور رکنے کا نام نہ لیا، یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک چٹائی کا ٹکڑا لیا اور اسے جلا کر راکھ بنا دیا، پھر اسے زخم پر لگا دیا، تو خون رک گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5768
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 144، حدیث 5789