المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
هشام بن سعد عن أبي حازم باب: ہشام بن سعد کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ أَتَاهُ نَفَرٌ امْتَرَوْا فِي مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَيِّ أَعْوَادٍ هُوَ؟ فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْرِفُ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ، وَمَنْ صَنَعَهُ، وَالْيَوْمَ الَّذِي قَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ تَأْمُرَ غُلَامًا لَهَا نَجَّارًا، فَصَنَعَ لَهُ أَعْوَادًا يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَيْهَا، فَصَنَعَ لَهُ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ، أَخْبَرَتِ الْمَرْأَةُ بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَحُمِلَ، فَخَطَبَ النَّاسَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ رَكَعَ عَلَيْهِ، ثُمَّ نَزَلَ لِلسُّجُودِ فَسَجَدَ، ثُمَّ رَكَعَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ»…رسول اللہ ﷺ کے منبر کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ کس لکڑی کا بنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: مجھے بخوبی معلوم ہے کہ یہ کس لکڑی کا بنا ہے، کس نے بنایا، اور وہ دن بھی جب رسول اللہ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے انصار کی ایک عورت کو حکم دیا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام کو حکم دے، چنانچہ اس نے آپ ﷺ کے خطبہ دینے کے لیے لکڑیاں بنائیں، جو اس نے غابہ کے اَثل درخت سے بنائیں۔ جب وہ اس سے فارغ ہوا تو اس عورت نے رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی، آپ ﷺ نے اسے منگوایا تو وہ اٹھا کر لایا گیا، آپ ﷺ نے اس پر لوگوں کو خطبہ دیا، پھر نماز کھڑی کی گئی، رسول اللہ ﷺ نے منبر پر ہی تکبیر کہی، پھر اسی پر رکوع کیا، پھر سجدے کے لیے نیچے اترے اور سجدہ کیا، پھر منبر پر ہی رکوع کیا، اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ اپنی نماز مکمل کی۔“