المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
صفة عمر بن الخطاب رضي الله عنه باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا حلیہ
حدیث نمبر: 57
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ لَا يُغَيِّرُ شَيْبَتَهُ، فَقِيلَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا تُغَيِّرُ، وَقَدْ كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُغَيِّرُ؟ قَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مِنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، وَمَا أَنَا بِمُغَيِّرٍ شَيْبَتِيترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے سفید بالوں کو (رنگ سے) نہیں بدلتے تھے۔ ان سے کہا گیا: اے امیر المومنین! آپ رنگ کیوں نہیں لگاتے، جبکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ رنگ لگایا کرتے تھے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ’جس شخص کا کوئی بال اسلام کی حالت میں سفید ہوا، وہ قیامت کے دن اس کے لیے نور ہوگا۔‘ اور میں اپنے سفید بالوں کو نہیں بدلوں گا۔“