حدیث نمبر: 5561
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْتُ الْخَرَّارَ، أَغْتَسِلُ، فَقَالَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ خَلْقًا ولَوْنًا كَأَنَّهُ خَلْقُ مُخَبَّأَةٍ، فَلُتِحَ بِي، فَحَمِيتُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، إِذَا أَعْجَبَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ، فَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ» ، وَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْسِلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَطَرَفِ إِزَارَهِ وَرُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ مِنْهُ وَصَبَّ عَلَيْهِ، فَرَاحَ مَعَ النَّاسِ
ترجمہ

…میں غسل کر رہا تھا، اس دوران عامر بن ربیعہ نے کہا: میں نے آج جیسی خلقت اور رنگت کبھی نہیں دیکھی، گویا یہ کسی پردہ نشین کی خلقت ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو مجھے فوراً کچھ ہو گیا اور مجھے بخار چڑھ گیا۔ یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں مار ڈالتا ہے؟ جب اسے اپنے بھائی میں کوئی چیز اچھی لگے تو اسے برکت کی دعا دینی چاہیے۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے (عامر کو) حکم دیا کہ وہ اپنا چہرہ، ہاتھ، تہبند کا کنارہ اور گھٹنے دھوئیں، پھر اس پانی میں سے کچھ پیا اور باقی مجھ پر ڈال دیا، تو میں لوگوں کے ساتھ روانہ ہو گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5561
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 83، حدیث 5582