المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن عثمان بن خالد بن مخلد بن حارثة بن مالك بن عضب بن جشم بن الخزرج أبو عبادة الزرقي " بدري، ويقال: عبادة، والصحيح أبو عبادة " باب: سیدنا سعید بن عثمان بن خالد بن مخلد بن حارثہ بن مالک بن عضب بن جشم بن خزرج ابوعبادہ زرقی رضی اللہ عنہ، بدری، انہیں عبادہ بھی کہا گیا ہے، لیکن درست ابوعبادہ ہے
حدیث نمبر: 5512
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُبَادَةَ الزُّرَقِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَ يَصِيدُ عَصَافِيرَ فِي بِئْرِ إِهَابٍ وَكَانَتْ لَهُمْ، فَرَآنِي عُبَادَةُ، وَقَدْ أَخَذْتُ عُصْفُورًا فَانْتَزَعَهُ مِنِّي وَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا»ترجمہ
عبداللہ بن عبادہ زرقی بیان کرتے ہیں کہ وہ بئرِ اہاب میں، جو ان کی اپنی ملکیت تھا، چڑیاں پکڑا کرتے تھے۔ ایک دن سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا، جبکہ میں نے ایک چڑیا پکڑ رکھی تھی، تو انہوں نے وہ مجھ سے چھین لی اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے (مدینہ کی) دونوں لاوہ زمینوں کے درمیان (شکار کو) حرام قرار دیا ہے“ (یعنی حدودِ حرمِ مدینہ کے اندر شکار حرام ہے)۔