حدیث نمبر: 5492
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ غِيَاثِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ الْجُمَحِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: «يَا أَبَا بَكْرٍ تَعَالَ، وَيَا عُمَرُ تَعَالَ، أُمِرْتُ أَنْ أُؤَاخِيَ بَيْنَكُمَا بِوَحْيٍ أُنْزِلَ عَلَيَّ مِنَ السَّمَاءِ، وَأَنْتُمَا أَخَوَانِ فِي الدُّنْيَا، أَخَوَانِ فِي الْجَنَّةِ، فَلْيُسَلِّمْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وليُصَافِحْهُ» ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِ عُمَرَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَكُونُ قَبْلَهُ، يَمُوتُ قَبْلَهُ» ، وَقَالَ: «يَا زُبَيْرُ يَا طَلْحَةُ تَعَالَا، أُمِرْتُ أَنْ أُؤَاخِيَ بَيْنَكُمَا، فَأَنْتُمَا أَخَوَانِ فِي الدُّنْيَا، أَخَوَانِ فِي الْجَنَّةِ، فَلْيُسَلِّمْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى صَاحِبِهِ» ، فَفَعَلَا، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَلِيُّ تَعَالَ، يَا عَمَّارُ تَعَالَ، أُمِرْتُ أَنْ أُؤَاخِيَ بَيْنَكُمَا، فَأَنْتُمَا أَخَوَانِ فِي الدُّنْيَا أَخَوَانِ فِي الْجَنَّةِ، فَلْيُسَلِّمْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى صَاحِبِهِ» ، فَفَعَلَا، ثُمَّ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَلَابنِ مَسْعُودٍ مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَا، ثُمَّ قَالَ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَلسَلْمَانَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَا، ثُمَّ قَالَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَلِصُهَيْبٍ مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَا، ثُمَّ لِأَبِي ذَرٍّ وَلِبِلَالٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَا، ثُمَّ قَالَ: «يَا أُسَامَةُ، وَيَا أَبَا هِنْدٍ تَعَالَا - حَجَّامًا كَانَ يَحْجُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَشْرَبُ دَمَهُ - تَعَالَا» ، فَقَالَ لَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، وَلِأَبِي أَيُّوبَ، وَلِعَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ

…سیدنا سعید بن عامر جمحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا: ”اے ابوبکر آؤ، اے عمر آؤ، مجھے آسمان سے نازل ہونے والی وحی کے ذریعے حکم دیا گیا ہے کہ میں تم دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دوں، تم دونوں دنیا میں بھی بھائی ہو اور جنت میں بھی بھائی ہو، تو تم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو سلام کرے اور اس سے مصافحہ کرے۔“ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا، اس پر رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”وہ اس سے پہلے ہو گا، وہ اس سے پہلے وفات پائے گا۔“

اور فرمایا: ”اے زبیر، اے طلحہ، آؤ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دوں، تم دونوں دنیا میں بھی بھائی ہو اور جنت میں بھی بھائی ہو، تو تم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو سلام کرے۔“ چنانچہ انہوں نے ایسا کیا۔ پھر فرمایا: ”اے علی آؤ، اے عمار آؤ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دوں، تم دونوں دنیا میں بھی بھائی ہو اور جنت میں بھی بھائی ہو، تو تم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو سلام کرے۔“ چنانچہ انہوں نے ایسا کیا۔ پھر آپ ﷺ نے ابی بن کعب اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی ایسا ہی فرمایا تو انہوں نے ایسا کیا۔ پھر ابودرداء اور سلمان رضی اللہ عنہما سے بھی ایسا ہی فرمایا تو انہوں نے ایسا کیا۔ پھر سعد بن ابی وقاص اور صہیب رضی اللہ عنہما سے بھی ایسا ہی فرمایا تو انہوں نے ایسا کیا۔ پھر ابوذر اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام بلال رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا ہی فرمایا تو انہوں نے ایسا کیا۔ پھر فرمایا: ”اے اسامہ، اے ابوہند آؤ“ — ابوہند وہ تھے جو نبی کریم ﷺ کو پچھنا لگاتے اور آپ ﷺ کا خون پی لیتے تھے — ”آؤ“، پھر ان دونوں سے بھی ایسا ہی فرمایا۔ پھر ابوایوب اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما سے بھی ایسا ہی فرمایا تو انہوں نے ایسا کیا۔ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5492
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 60، حدیث 5513