المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن عامر بن حذيم الجمحي " كان ينزل حمص، وهو سعيد بن عامر بن حذيم بن سلامان بن ربيعة بن حرقوس بن سعد بن جمح، وأمه أروى بنت أبي معيط بن أبي عمرو بن أمية بن عبد شمس باب: سیدنا سعید بن عامر بن حذیم جمحی رضی اللہ عنہ، حمص میں رہتے تھے، وہ سعید بن عامر بن حذیم بن سلامان بن ربیعہ بن حرقوس بن سعد بن جمح ہیں، ان کی والدہ اروی بنت ابی معیط بن ابی عمرو بن امیہ بن عبدشمس تھیں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، ثنا مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ الْجُمَحِيُّ: إِنَّا مُسْتَعْمِلُوكَ عَلَى هَؤُلَاءِ، تَسِيرُ بِهِمْ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ فَتُجَاهِدْ بِهِمْ، - فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فَقَالَ فِيهِ - قَالَ سَعِيدٌ: وَمَا أَنَا بِمُخْتِلِفٍ عَنِ الْعَنَقِ الْأَوَّلِ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ: " يُزَفُّونَ كَمَا يُزَفُّ الْحَمَامُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: قِفُوا لِلْحِسَابِ، فَيَقُولُونَ: وَاللهِ مَا تَرَكْنَا شَيْئًا نُحَاسَبُ بِهِ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: صَدَقَ عِبَادِي، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِينَ عَامًا "…عبدالرحمن بن سابط کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن عامر جمحی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا: ہم آپ کو ان لوگوں پر مقرر کرنا چاہتے ہیں، آپ انہیں لے کر دشمن کی سرزمین کی طرف جائیں اور ان کے ساتھ جہاد کریں — پھر ایک طویل حدیث ذکر کی، اس میں یہ بھی تھا — سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پہلے قافلے سے پیچھے رہنے والا نہیں ہوں، اس کے بعد کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو غریب مسلمانوں کے بارے میں یہ فرماتے سنا: ”انہیں جنت کی طرف اس طرح لے جایا جائے گا جیسے کبوتر کو لے جایا جاتا ہے، تو ان سے کہا جائے گا: حساب کے لیے رکو، وہ کہیں گے: اللہ کی قسم! ہم نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس کا حساب لیا جائے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا: میرے بندوں نے سچ کہا، چنانچہ وہ دوسرے لوگوں سے ستر سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔“