حدیث نمبر: 5487
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، ثنا مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ الْجُمَحِيُّ: إِنَّا مُسْتَعْمِلُوكَ عَلَى هَؤُلَاءِ، تَسِيرُ بِهِمْ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ فَتُجَاهِدْ بِهِمْ، - فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فَقَالَ فِيهِ - قَالَ سَعِيدٌ: وَمَا أَنَا بِمُخْتِلِفٍ عَنِ الْعَنَقِ الْأَوَّلِ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ: " يُزَفُّونَ كَمَا يُزَفُّ الْحَمَامُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: قِفُوا لِلْحِسَابِ، فَيَقُولُونَ: وَاللهِ مَا تَرَكْنَا شَيْئًا نُحَاسَبُ بِهِ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: صَدَقَ عِبَادِي، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِينَ عَامًا "
ترجمہ

…عبدالرحمن بن سابط کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن عامر جمحی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا: ہم آپ کو ان لوگوں پر مقرر کرنا چاہتے ہیں، آپ انہیں لے کر دشمن کی سرزمین کی طرف جائیں اور ان کے ساتھ جہاد کریں — پھر ایک طویل حدیث ذکر کی، اس میں یہ بھی تھا — سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پہلے قافلے سے پیچھے رہنے والا نہیں ہوں، اس کے بعد کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو غریب مسلمانوں کے بارے میں یہ فرماتے سنا: ”انہیں جنت کی طرف اس طرح لے جایا جائے گا جیسے کبوتر کو لے جایا جاتا ہے، تو ان سے کہا جائے گا: حساب کے لیے رکو، وہ کہیں گے: اللہ کی قسم! ہم نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس کا حساب لیا جائے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا: میرے بندوں نے سچ کہا، چنانچہ وہ دوسرے لوگوں سے ستر سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5487
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 58، حدیث 5508