حدیث نمبر: 5385
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: آخَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ، فَآخَى بَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: إِنَّ لِي مَالًا، فَهِيَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ شَطْرَانِ، وَلِي امْرَأَتَانِ، فَانْظُرْ: أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ، فَأَنَا أُطَلِّقُهَا، فَإِذَا حَلَّتْ فَتَزَوَّجْهَا، فَقَالَ: بَارَكَ اللهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ، فَلَمْ يَرْجِعْ حَتَّى رَجَعَ بِتَمْرٍ، وَأَقِطٍ، ثُمَّ أَفْضَلَهُ، وَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: «مَهْيَمْ؟» ، فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: «مَا سُقْتَ إِلَيْهَا؟» ، قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ»
ترجمہ

…(عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کی پیشکش کے جواب میں) کہا: اللہ تمہارے اہل اور مال میں برکت دے، مجھے بازار کا راستہ بتا دو۔ چنانچہ وہ اس وقت تک واپس نہ آئے جب تک کھجور اور پنیر لے کر نہ لوٹے، پھر اس میں سے کچھ بچا لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان پر زردی کا نشان دیکھا تو فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اسے کیا مہر دیا؟“ انہوں نے عرض کیا: کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو، خواہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5385
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 26، حدیث 5404