المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعد بن الربيع الأنصاري رضي الله عنه " عقبي، بدري، أحدي، نقيب " باب: سیدنا سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ، بیعت عقبہ، بدر اور احد میں شریک، نقیب
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: آخَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ، فَآخَى بَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: إِنَّ لِي مَالًا، فَهِيَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ شَطْرَانِ، وَلِي امْرَأَتَانِ، فَانْظُرْ: أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ، فَأَنَا أُطَلِّقُهَا، فَإِذَا حَلَّتْ فَتَزَوَّجْهَا، فَقَالَ: بَارَكَ اللهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ، فَلَمْ يَرْجِعْ حَتَّى رَجَعَ بِتَمْرٍ، وَأَقِطٍ، ثُمَّ أَفْضَلَهُ، وَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: «مَهْيَمْ؟» ، فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: «مَا سُقْتَ إِلَيْهَا؟» ، قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ»سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے قریش اور انصار کے درمیان بھائی چارہ کرایا، تو سیدنا سعد بن ربیع اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ کرایا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے پاس مال ہے، وہ میرے اور تمہارے درمیان آدھا آدھا ہو گا، اور میری دو بیویاں ہیں، دیکھ لو ان میں سے جو تمہیں زیادہ پسند ہو، میں اسے طلاق دے دیتا ہوں، جب اس کی عدت پوری ہو جائے تو تم اس سے نکاح کر لینا۔ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تمہارے اہل اور مال میں برکت دے، مجھے بازار کا راستہ بتا دو۔ چنانچہ وہ اس وقت تک واپس نہ آئے جب تک کھجور اور پنیر لے کر نہ لوٹے، پھر اس میں سے کچھ بچا لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان پر زردی کا نشان دیکھا تو فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اسے کیا مہر دیا؟“ انہوں نے عرض کیا: کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو، خواہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔“