❮
❯
حدیث نمبر: 5384
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ سَعْدٌ أَنْ يُنَاصِفَهُ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، وَكَانَ لَهُ امْرَأَتَانِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: بَارَكَ اللهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ، قَالَ: فَأَتَى السُّوقَ، فَرَبِحَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ مِنْ سَمْنٍ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ: «مَهْيَمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ» ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: «مَا سُقْتَ إِلَيْهَا» قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ»
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ آئے تو نبی کریم ﷺ نے ان کے اور سیدنا سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے پیشکش کی کہ وہ اپنے گھر والوں اور اپنے مال میں سے آدھا حصہ ان کے ساتھ بانٹ دیں گے، اور ان کی دو بیویاں تھیں۔ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اللہ تمہارے اہل اور مال میں برکت دے، مجھے بازار کا راستہ بتا دو۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ وہ بازار گئے اور پنیر اور گھی میں کچھ نفع کمایا۔ چند دنوں بعد نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا تو ان پر زردی کا نشان تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا معاملہ ہے عبدالرحمن؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اسے کیا مہر دیا؟“ انہوں نے عرض کیا: کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو، خواہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5384
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 26، حدیث 5403