المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعد بن الربيع الأنصاري رضي الله عنه " عقبي، بدري، أحدي، نقيب " باب: سیدنا سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ، بیعت عقبہ، بدر اور احد میں شریک، نقیب
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ ابْنُ عَوْفٍ، دَفَعَهُ إِلَى سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ: «هَذَا أَخُوكَ» ، فَانْقَلَبَ بِهِ، فَعَشَّاهُ، وَفَرَشَ لَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، غَدَا سَعْدٌ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَحْسَنُ الْأَنْصَارِ امْرَأَتَيْنِ، وَأَفْضَلُ الْأَنْصَارِ حَائِطَيْنِ، فَانْظُرْ إِلَى امْرَأَتَيَّ فَأَيَّتُهُمَا كَانَتْ أَعْجَبَ إِلَيْكَ، طَلَّقْتُهَا لَكَ، فَإِنَّ أَهْلَهَا لَمْ يَعْصُونِي، وَانْظُرْ إِلَى أَيِّ حَائِطَيَّ شِئْتَ فَخُذْ، فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُ شَيْئًاسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا اور فرمایا: ”یہ تمہارا بھائی ہے۔“ چنانچہ وہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے، انہیں شام کا کھانا کھلایا اور ان کے لیے بستر بچھایا۔ جب صبح ہوئی تو سعد رضی اللہ عنہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس صبح سویرے آئے اور سلام کیا، پھر کہا: میں انصار میں سب سے زیادہ خوبصورت دو بیویوں والا اور سب سے بہتر دو باغات والا ہوں، تم میری دونوں بیویوں کو دیکھ لو، جو بھی تمہیں زیادہ پسند آئے میں اسے تمہارے لیے طلاق دے دوں گا، کیونکہ اس کے گھر والے میری نافرمانی نہیں کریں گے، اور میرے دونوں باغات میں سے جو بھی چاہو لے لو۔ لیکن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان میں سے کچھ بھی قبول نہ کیا۔