المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومما أسند أبي بن كعب رضي الله عنه باب: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 537
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا جَزَاءُ الْحُمَّى؟ قَالَ: «تَجْرِي الْحَسَنَاتُ عَلَى صَاحِبِهَا مَا اخْتُلِجَ عَلَيْهِ قَدَمٌ أَوْ ضُرِبَ عَلَيْهِ عِرْقٌ» قَالَ أُبَيٌّ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُمَّى لَا تَمْنَعُنِي خُرُوجًا فِي سَبِيلِكَ، وَلَا خُرُوجًا إِلَى بَيْتِكَ، وَلَا مَسْجِدِ نَبِيِّكَ» قَالَ: فَلَمْ يُمْسِ أُبَيٌّ قَطُّ إِلَّا وَبِهِ حُمَّىترجمہ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بخار کا کیا اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک کسی کا پاؤں لڑکھڑائے یا کوئی رگ دُکھے، اس کے نیک اعمال (کا اجر) اس پر جاری رہتا ہے۔“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے (دعا کی): ”اے اللہ! میں تجھ سے ایسا بخار مانگتا ہوں جو مجھے تیرے راستے میں نکلنے سے، تیرے گھر (حج) کو جانے سے، اور تیرے نبی کی مسجد میں جانے سے نہ روکے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کی کوئی شام ایسی نہ گزری جس میں انہیں بخار نہ ہو۔