المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومما أسند أبي بن كعب رضي الله عنه باب: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ جُرْنٌ مِنْ تَمْرٍ، فَكَانَ يَنْقُصُ، فَحَرَسَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَإِذَا هُوَ بِدَابَّةٍ شِبْهِ الْغُلَامِ الْمُحْتَلِمِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَقَالَ: مَا أَنْتَ، جِنِّيٌّ أَمْ إِنْسِيٌّ؟ قَالَ: لَا بَلْ جِنِّيٌّ. قَالَ: فَنَاوِلْنِي يَدَكَ. فَنَاوَلَهُ يَدَهُ، فَإِذَا يَدُهُ يَدُ كَلْبٍ، وَشَعْرُهُ شَعْرُ كَلْبٍ، قَالَ: هَكَذَا خَلْقُ الْجِنِّ، قَالَ: قَدْ عَلِمَتِ الْجِنُّ أَنَّ مَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَشَدُّ مِنِّي، قَالَ: فَمَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّكَ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ، فَجِئْنَا نُصِيبُ مِنْ طَعَامِكَ. قَالَ: فَمَا يُنْجِينَا مِنْكُمْ؟ قَالَ: هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ: {اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: ٢٥٥] مَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي أُجِيرَ مِنَّا حَتَّى يُصْبِحَ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ أُجِيرَ مِنَّا حَتَّى يُمْسِيَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «صَدَقَ الْخَبِيثُ»محمد بن ابی بن کعب اپنے والد سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس کھجوروں کا ایک تودہ (خرمن) تھا جو کم ہوتا رہتا تھا، تو ایک رات انہوں نے اس کی نگرانی کی، تو اچانک انہیں ایک ایسی مخلوق نظر آئی جو بلوغت کے قریب لڑکے جیسی تھی۔ انہوں نے اسے سلام کیا تو اس نے سلام کا جواب دیا۔ انہوں نے پوچھا: تم کیا ہو، جن ہو یا انسان؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ جن ہوں۔ انہوں نے کہا: تو مجھے اپنا ہاتھ دو۔ تو اس نے اپنا ہاتھ دیا، تو اس کا ہاتھ کتے کے ہاتھ جیسا اور اس کے بال کتے کے بالوں جیسے تھے۔ انہوں نے کہا: کیا جنوں کی پیدائش ایسی ہی ہوتی ہے؟ اس نے کہا: جنوں کو معلوم ہے کہ ان میں مجھ سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں۔ انہوں نے پوچھا: تمہیں یہاں کیا لایا؟ اس نے کہا: ہمیں معلوم ہوا کہ تم صدقہ کرنا پسند کرتے ہو، تو ہم تمہارے کھانے میں سے کچھ حاصل کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: تو ہمیں تم سے کیا چیز بچائے گی؟ اس نے کہا: سورۃ البقرہ کی یہ آیت: {اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ ہے، ہر چیز کو تھامنے والا ہے} [البقرہ: 255]، جو اسے شام کے وقت پڑھ لے وہ صبح تک ہم سے محفوظ رہے گا، اور جو اسے صبح کے وقت پڑھ لے وہ ہم سے (یعنی شیطانوں سے) شام تک محفوظ رہے گا۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے یہ بات ذکر کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس خبیث نے سچ کہا۔“