حدیث نمبر: 5327
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَمَّا دُفِنَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ، فَسَبَّحَ النَّاسُ مَعَهُ طَوِيلًا، ثُمَّ كَبَّرَ، فَكَبَّرَ النَّاسُ مَعَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مِمَّ سَبَّحْتَ؟ قَالَ: «لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ، حَتَّى فَرَّجَهُ اللهُ بِرَحْمَتِهِ»
ترجمہ

…راوی کہتے ہیں: جب سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، تو آپ ﷺ نے سبحان اللہ کہا، لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ دیر تک تسبیح کی، پھر آپ ﷺ نے اللہ اکبر کہا تو لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ تکبیر کہی۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے کس وجہ سے تسبیح کی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نیک آدمی پر اس کی قبر تنگ ہو گئی تھی، یہاں تک کہ اللہ نے اپنی رحمت سے اسے کشادہ کر دیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5327
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 13، حدیث 5346