حدیث نمبر: 5234
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ سَعْدَانَ بْنِ يَزِيدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ: «هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ»
وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ؟ فَقَالَ: «مَا لَكَ وَلِضَالَةِ الْإِبِلِ؟ مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، أَتْرُكُهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا»
ترجمہ

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بھٹکی ہوئی بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے۔“
اور ان سے بھٹکے ہوئے اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے بھٹکے ہوئے اونٹ سے کیا سروکار؟ اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ اور پاؤں ہیں، وہ پانی پر جاتا اور درخت کھاتا ہے، میں اسے چھوڑ دیتا ہوں یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5234
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 252، حدیث 5253