حدیث نمبر: 5233
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ اللُّقَطَةِ؟ فَقَالَ: «اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ أَتَى بَاغِيهَا فَرُدَّهَا عَلَيْهِ، وَإِلَّا فَاسْتَنْفِقْهَا»
قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ»
قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، ثُمَّ قَالَ: «مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، دَعْهَا حَتَّى يَلْقَاهَا صَاحِبُهَا»
ترجمہ

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! مجھے لقطہ کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا تھیلا اور باندھنے کی ڈوری پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا طالب آ جائے تو اسے لوٹا دو، ورنہ اسے خرچ کر لو۔“
اس نے کہا: مجھے بھٹکی ہوئی بکری کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پکڑ لو، وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے۔“
اس نے کہا: مجھے بھٹکے ہوئے اونٹ کے بارے میں بتائیے؟ اس پر رسول اللہ ﷺ کو غصہ آ گیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے رخسار سرخ ہو گئے، پھر فرمایا: ”تجھے اس سے کیا سروکار؟ اس کے ساتھ اس کا پاؤں اور مشکیزہ ہے، وہ پانی پر جاتا اور درخت کھاتا ہے، اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5233
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 251، حدیث 5252