حدیث نمبر: 5235
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اللُّقَطَةُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ يَأْتِ لَهَا طَالِبٌ فَاسْتَنْفِقْهَا»
فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ»
قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ: «مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا، وَتَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا»
ترجمہ

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھا، اس نے کہا: یا رسول اللہ! لقطہ کے بارے میں بتائیے؟ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر کوئی طالب نہ آئے تو اسے خرچ کر لو۔“
اس نے کہا: یا رسول اللہ! بھٹکی ہوئی بکری کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے۔“
اس نے کہا: یا رسول اللہ! بھٹکے ہوئے اونٹ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس پر رسول اللہ ﷺ کو غصہ آ گیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر فرمایا: ”تجھے اس سے کیا سروکار؟ اس کے ساتھ اس کا پاؤں اور مشکیزہ ہے، وہ پانی پر جاتا اور درخت کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5235
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 252، حدیث 5254