حدیث نمبر: 5232
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ؟ فَقَالَ: «مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، تَأْكُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمَاءَ حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا»
ثُمَّ سَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ: «هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ»
ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ؟ فَقَالَ: «اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَهِي لَكَ»
ترجمہ

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے بھٹکے ہوئے اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اس سے کیا سروکار؟ اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ اور پاؤں ہیں، وہ درخت کھاتا اور پانی پر جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا طالب اسے پا لے۔“
پھر اس نے بھٹکی ہوئی بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے۔“
پھر اس نے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا تھیلا اور تعداد پہچان لو، اگر اس کا مالک آ کر اسے پہچان لے تو اسے دے دو، ورنہ وہ تمہاری ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5232
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 251، حدیث 5251