حدیث نمبر: 5231
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةِ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ؟ فَقَالَ: «اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا»
قَالَ: فَضَالَةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ»
قَالَ: فَضَالَةُ الْإِبِلِ؟ قَالَ: «مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا»
ترجمہ

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا تھیلا اور باندھنے کی ڈوری پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا مالک آ جائے، ورنہ وہ تمہاری ہے۔“
اس نے پوچھا: بھٹکی ہوئی بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے۔“
اس نے پوچھا: بھٹکے ہوئے اونٹ کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اس سے کیا سروکار؟ اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ اور پاؤں ہیں، وہ پانی پر جاتا اور درخت کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5231
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 251، حدیث 5250