المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زيد بن الصامت أبو عياش الزرقي " ويقال عبيد بن معاوية بن الصامت كان ينزل المدينة ويقال زيد بن النعمان ويقال الفضيل بن معاذ بن الصامت " باب: سیدنا زید بن صامت ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ نام عبید بن معاویہ بن صامت تھا (مدینہ میں رہتے تھے)، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زید بن نعمان تھا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فضیل بن معاذ بن صامت تھا
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا جَعْفَرُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ بِعُسْفَانَ» ، وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: قَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَهُمْ، فَقَالُوا: يَأْتِي عَلَيْهِمُ الْآنَ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَوْلَادِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْآيَاتِ الَّتِي فِيهَا صَلَاةُ الْخَوْفِ، «فَصَفَّ أَصْحَابَهُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرْنَا جَمِيعًا، وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، فَلَمَّا قَامَ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، فَقَامُوا مَقَامَ الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، فَقَامَ مَقَامَهُمْ، فَرَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، وَرَفَعَ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، فَلَمَّا جَلَسَ سَجَدَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ»سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عسفان میں ظہر کی نماز پڑھائی، جبکہ مشرکین پر خالد بن ولید سالار تھے، تو مشرکین نے کہا: کاش ہم ان پر یکایک حملہ کر پاتے۔ پھر کہنے لگے: اب ان پر ایک ایسی نماز آنے والی ہے جو انہیں اپنی اولاد اور اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ چنانچہ جبریل علیہ السلام خوف کی نماز والی آیات لے کر نازل ہوئے، آپ ﷺ نے صحابہ کو اپنے پیچھے دو صفوں میں کھڑا کیا، پھر تکبیر کہی تو ہم سب نے تکبیر کہی، اور رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا، اور سجدہ کیا تو قریبی صف نے سجدہ کیا، جب آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو قریبی صف پیچھے ہٹی اور پچھلی صف والوں کی جگہ کھڑی ہوئی، اور پچھلی صف آگے بڑھی اور ان کی جگہ کھڑی ہوئی، پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا، پھر سر اٹھایا تو ہم سب نے اٹھایا، اور قریبی صف نے سجدہ کیا، جب آپ ﷺ بیٹھے تو پچھلی صف نے سجدہ کیا۔