حدیث نمبر: 5118
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا جَعْفَرُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ بِعُسْفَانَ» ، وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: قَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَهُمْ، فَقَالُوا: يَأْتِي عَلَيْهِمُ الْآنَ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَوْلَادِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْآيَاتِ الَّتِي فِيهَا صَلَاةُ الْخَوْفِ، «فَصَفَّ أَصْحَابَهُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرْنَا جَمِيعًا، وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، فَلَمَّا قَامَ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، فَقَامُوا مَقَامَ الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، فَقَامَ مَقَامَهُمْ، فَرَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، وَرَفَعَ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، فَلَمَّا جَلَسَ سَجَدَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ»
ترجمہ

سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عسفان میں ظہر کی نماز پڑھائی، جبکہ مشرکین پر خالد بن ولید سالار تھے، تو مشرکین نے کہا: کاش ہم ان پر یکایک حملہ کر پاتے۔ پھر کہنے لگے: اب ان پر ایک ایسی نماز آنے والی ہے جو انہیں اپنی اولاد اور اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ چنانچہ جبریل علیہ السلام خوف کی نماز والی آیات لے کر نازل ہوئے، آپ ﷺ نے صحابہ کو اپنے پیچھے دو صفوں میں کھڑا کیا، پھر تکبیر کہی تو ہم سب نے تکبیر کہی، اور رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا، اور سجدہ کیا تو قریبی صف نے سجدہ کیا، جب آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو قریبی صف پیچھے ہٹی اور پچھلی صف والوں کی جگہ کھڑی ہوئی، اور پچھلی صف آگے بڑھی اور ان کی جگہ کھڑی ہوئی، پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا، پھر سر اٹھایا تو ہم سب نے اٹھایا، اور قریبی صف نے سجدہ کیا، جب آپ ﷺ بیٹھے تو پچھلی صف نے سجدہ کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5118
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 216، حدیث 5137