❮
❯
حدیث نمبر: 5116
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عِيسَى الْكُوفِيِّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ الْمَكِّيُّ، ثنا أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيَهِ الْمُشْرِكُونَ بِعُسْفَانَ وَعَلَى خَيْلِهِمْ يَوْمَئِذٍ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَحَضَرَتْنَا صَلَاةُ الظُّهْرِ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَهَمَّ الْمُشْرِكُونَ أَنْ يَحْمِلُوا عَلَيْنَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّهَا سَتَحْضُرُهُمْ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَوْلَادِهِمْ، يَعْنُونَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْآيَاتِ الَّتِي فِيهَا صَلَاةُ الْخَوْفِ، «فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَأَقَامَ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، وَالْمُشْرِكُونَ يَوْمَئِذٍ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعْنَا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الْمُؤَخَّرُ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ سُجُودِهِمْ سَجَدَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، فَتَلَاوَمَ الْمُشْرِكُونَ بَيْنَهُمْ» قَالَ أَبُو عَيَّاشٍ: «فَصَلَّى بِنَا فِي أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ أَيْضًا مِثْلَهَا»
ترجمہ

سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ کیا، تو عسفان میں مشرکین سے آپ ﷺ کا سامنا ہوا، اور اس دن ان کے گھڑ سواروں پر خالد بن ولید سالار تھے۔ ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو مؤذن نے اذان دی اور نماز کی اقامت کہی، تو مشرکین نے ہم پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا، پھر ان میں سے بعض نے کہا: اب ان پر ایک ایسی نماز آنے والی ہے جو انہیں اپنی اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے - ان کی مراد نماز عصر سے تھی - تو جبریل علیہ السلام خوف کی نماز والی آیات لے کر آئے، پھر جب نماز کا وقت آیا تو مؤذن نے اذان دی اور اقامت کہی، رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، اور اس دن مشرکین قبلہ کی طرف تھے، رسول اللہ ﷺ نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا، پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور قریبی صف نے بھی سجدہ کیا، اور پچھلی صف کھڑی رہی، جب یہ سجدے سے فارغ ہوئے تو پچھلی صف نے سجدہ کیا، تو مشرکین آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ ابوعیاش کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے ہمیں بنو سلیم کی سرزمین میں بھی اسی طرح نماز پڑھائی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5116
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 215، حدیث 5135