المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثوير بن أبي فاختة، عن زيد بن أرقم باب: ثویر بن ابی فاختہ کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5047
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُمَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَاهِلِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْغَدِيرِ، فَقَالَ: «أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى، فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے غدیر کے دن ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”کیا میں مومنوں کی جانوں پر ان سے زیادہ حق دار نہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ تو آپ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”جس کا میں مولیٰ ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں، اے اللہ! جو ان سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ، اور جو ان سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔“