المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو إسحاق السبيعي، عن زيد باب: ابواسحاق سبیعی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَمِّي فِي غَزْوَةٍ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهَ بْنَ أُبَيٍّ يَقُولُ: {لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا} [المنافقون: ٧] مِنْ حَوْلِهِ {لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ} [المنافقون: ٨] فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ وَأَصْحَابِهِ، فَحَلَفُوا مَا قَالُوا، فَكَذَّبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَدَّقَهُ وَأَصَابَنِي هَمٌّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ قَطُّ، فَجَلَسْتُ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ لِي عَمِّي: مَا أَرَدْتَ إِلَّا أَنْ كَذَّبَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ومَقَتَكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ} [المنافقون: ١] فَبَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ صَدَّقَكَ»سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک غزوے میں اپنے چچا کے ساتھ تھا، تو میں نے عبداللہ بن اُبَی کو کہتے سنا: ”رسول اللہ ﷺ کے پاس رہنے والوں پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ اس کے اردگرد سے منتشر ہو جائیں“ [المنافقون: 7]، ”اگر ہم مدینہ کو واپس لوٹے تو عزت والا ذلیل کو اس سے ضرور نکال دے گا“ [المنافقون: 8]۔ میں نے یہ بات اپنے چچا سے بیان کی، انہوں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے بیان کر دی۔ نبی کریم ﷺ نے مجھے بلایا، پھر نبی کریم ﷺ نے عبداللہ بن اُبَی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کی طرف قاصد بھیجا، تو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے جھٹلا دیا اور اسے سچا مان لیا۔ مجھے ایسا غم لاحق ہوا جیسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، تو میں گھر میں بیٹھ گیا۔ میرے چچا نے مجھ سے کہا: تم نے صرف یہ چاہا کہ نبی کریم ﷺ تمہیں جھوٹا کہیں اور تم سے ناراض ہوں۔ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں“ [المنافقون: 1]۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلا بھیجا، آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی، پھر فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل نے تمہیں سچا ثابت کر دیا۔“