حدیث نمبر: 5033
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، ثنا سَالِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ: رَمِدَتْ عَيْنَايَ، فَعَادَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّمَدِ، فَقَالَ: «يَا زَيْدُ، لَوْ أَنَّ عَيْنَيْكَ لِمَا بِهِمَا كَيْفَ كُنْتَ تَصْنَعُ؟» قَالَ: كُنْتُ أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ، قَالَ: «يَا زَيْدُ، لَوْ أَنَّ عَيْنَيْكَ لِمَا بِهِمَا فَصَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ لَمْ يَكُنْ لَكَ ثَوَابٌ دُونَ الْجَنَّةِ»
ترجمہ

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری آنکھوں میں سوزش ہو گئی، تو رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے زید! اگر تمہاری آنکھیں ایسی ہی رہیں تو تم کیا کرو گے؟“ میں نے کہا: میں صبر کروں گا اور ثواب کی امید رکھوں گا۔ فرمایا: ”اے زید! اگر تمہاری آنکھیں ایسی ہی رہیں اور تم نے صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی، تو تمہارے لیے جنت کے سوا کوئی اور جزا نہیں ہو گی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5033
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 190، حدیث 5052