❮
❯
حدیث نمبر: 5022
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَعَنَا أُنَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ يَسْبِقُونَا، فَسَبَقَ الْأَعْرَابِيُّ أَصْحَابَهُ يَمْلَأُ الْحَوْضَ، وَيَجْعَلُ حَوْلَهُ حِجَارَةً، وَيَجْعَلُ النِّطَعَ عَلَيْهِ حَتَّى يَجِيءَ أَصْحَابُهُ، وَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْرَابِيًّا، فَأَرْخَى زِمَامَ نَاقَتِهِ لِتَشْرَبَ، فَأَبَى أَنْ يَدَعَهُ، فَانْتَزَعَ حَجَرًا فَغَاضَ الْمَاءُ وَمَعَ الْأَعْرَابِيِّ خَشَبَةٌ، فَضَرَبَ بِهَا رَأْسَ الْأَنْصَارِيِّ فَشَجَّهُ، فَأَتَى عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ رَأْسُ الْمُنَافِقِينَ فَأَخْبَرَهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِهِ فَغَضِبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ، ثُمَّ قَالَ: {لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ} يَعْنِي الْأَعْرَابَ، وَكَانُوا يَحْضُرُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الطَّعَامِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ لِأَصْحَابِهِ: إِذَا انْفَضُّوا مِنْ عِنْدِ مُحَمَّدٍ ائْتُوا مُحَمَّدًا بِالطَّعَامِ، فَلْيَأْكُلْ هُوَ وَمَنْ عِنْدَهُ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيُخْرِجِ الْأَعَزُّ مِنْكُمُ الْأَذَلَّ، قَالَ زَيْدٌ: وَأَنَا رَدِيفُ عَمِّي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ، وَكُنَّا أَخْوَالَهُ، فَأَخْبَرْتُ عَمِّي، فَانْطَلَقَ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَلَفَ وَجَحَدَ، فَصَدَّقَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَّبَنِي، فَجَاءَ عَمِّي، فَقَالَ: مَا أَرَدْتَ إِلَّا أَنْ مَقَتَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَّبَكَ الْمُسْلِمُونَ، فَوَقَعَ عَلَيَّ مِنَ الْهَمِّ مَا لَمْ يَقَعْ عَلَى أَحَدٍ قَطُّ، فَبَيْنَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَدْ خَفَقْتُ بِرَأْسِي مِنَ الْهَمِّ «وَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَكَ أُذُنِي وَضَحِكَ فِي وَجْهِي» ، فَمَا كَانَ يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا الْخُلْدَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَحِقَنِي، فَقَالَ: مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: «مَا قَالَ لِي شَيْئًا إِلَّا أَنْ عَرَكَ أُذُنِي وَضَحِكَ فِي وَجْهِي» ، قَالَ: أَبْشِرْ، ثُمَّ لَحِقَنِي عُمَرُ، فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ قُولِي لِأَبِي بَكْرٍ، «فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْمُنَافِقِينَ»
ترجمہ

(سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ کیا، ہمارے ساتھ کچھ دیہاتی لوگ تھے جو ہم سے آگے نکل جاتے تھے۔ ایک دیہاتی اپنے ساتھیوں سے آگے نکل کر حوض بھرتا، اس کے گرد پتھر رکھ دیتا اور اس پر چمڑے کا فرش ڈال دیتا تاکہ اس کے ساتھی آ جائیں۔ انصار کا ایک آدمی ایک دیہاتی کے پاس آیا اور اپنی اونٹنی کی مہار ڈھیلی چھوڑ دی تاکہ وہ پانی پی لے، مگر اس دیہاتی نے اسے پینے دینے سے انکار کر دیا۔ اس (انصاری) نے ایک پتھر کھینچ نکالا تو پانی بہہ گیا۔ دیہاتی کے پاس ایک لکڑی تھی، اس نے وہ انصاری کے سر پر ماری اور اس کا سر زخمی کر دیا۔ وہ (انصاری) منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبی کے پاس آیا اور اسے خبر دی، اور وہ اس کے ساتھیوں میں سے تھا۔ عبداللہ بن اُبی غضبناک ہوا، پھر کہا: ”ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ ان کے اردگرد سے منتشر ہو جائیں“ یعنی دیہاتیوں پر، اور وہ کھانے کے وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوتے تھے۔ عبداللہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جب وہ محمد (ﷺ) کے پاس سے منتشر ہو جائیں تو محمد (ﷺ) کے پاس کھانا لے جاؤ، تاکہ وہ اور جو ان کے پاس ہیں وہی کھائیں۔ پھر اپنے ساتھیوں سے کہا: جب تم مدینہ لوٹو گے تو تم میں سے عزت والا ذلیل کو (وہاں سے) نکال دے گا۔ زید کہتے ہیں: میں اپنے چچا رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار تھا، میں نے عبداللہ بن اُبی کی بات سن لی، اور ہم اس کے ماموں (کے خاندان سے) تھے۔ میں نے اپنے چچا کو بتایا، وہ گئے اور رسول اللہ ﷺ کو خبر دی۔ رسول اللہ ﷺ نے (اسے) بلا بھیجا تو اس نے قسم کھائی اور انکار کر دیا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے سچا مانا اور مجھے جھٹلا دیا۔ پھر میرے چچا آئے اور کہا: تم نے یہی چاہا کہ رسول اللہ ﷺ تم سے ناراض ہوں اور مسلمان تمہیں جھٹلائیں۔ تو مجھ پر ایسا غم طاری ہوا جیسا کبھی کسی پر طاری نہ ہوا تھا۔ اسی دوران میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں چل رہا تھا کہ غم کی وجہ سے میرا سر جھک گیا، اچانک رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، آپ ﷺ نے میرا کان مروڑا اور میرے سامنے مسکرائے، تو مجھے اس کے بدلے دنیا میں ہمیشہ کی زندگی بھی خوش نہ کر سکتی تھی۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے آ ملے اور پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا فرمایا؟ میں نے کہا: مجھ سے کچھ نہیں فرمایا سوائے اس کے کہ آپ ﷺ نے میرا کان مروڑا اور مسکرائے۔ انہوں نے کہا: خوش ہو جاؤ۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے آ ملے، میں نے انہیں بھی وہی بات بتائی جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بتائی تھی۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سورۃ المنافقون پڑھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5022
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 186، حدیث 5041