المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن حيان التيمي، عن زيد بن أرقم باب: یزید بن حیان تیمی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ: يَا زَيْدُ، رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ، لَقَدْ أَصَبْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا شَهِدْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا سَمِعْتَ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، وَاللهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَقَدِمَ عَهْدِي، وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا أُحَدِّثُكُمْ فَاقْبَلُوهُ وَمَا لَمْ أُحَدِّثْكُمُوهُ فَلَا تُكَلِّفُونِيهِ، ثُمَّ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعَى: خُمٌّ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَرَ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا بِشْرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِنِي رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَهُ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللهِ وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ» فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ: «أَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي» قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: مَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ، أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: «إِنَّ نِسَاءَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَلَكِنَّ أَهْلَ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ» ، قَالَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ: «هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ الْعَبَّاسِ وَآلُ عَقِيلٍ» قِيلَ: كُلُّ هَؤُلَاءِ حَرَّمَ الصَّدَقَةَ، قَالَ: «نَعَمْ»سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک دن ہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، ایک پانی کے مقام پر جسے خُم کہا جاتا ہے، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ آپ ﷺ نے اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کی، نصیحت فرمائی اور یاد دہانی کرائی، پھر فرمایا: ”امابعد، اے لوگو! میں ایک بشر ہی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا فرستادہ میرے پاس آئے اور میں اس کی پکار پر لبیک کہوں، اور میں تم میں دو بھاری امانتیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے ایک اللہ کی کتاب ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے، تو اللہ کی کتاب کو تھامو اور اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔“ آپ ﷺ نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی اور اس کی ترغیب دی، پھر فرمایا: ”اپنے اہل بیت کے بارے میں! میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں اپنے اہل بیت کے بارے میں۔“ یہ بات آپ ﷺ نے تین بار فرمائی۔ حصین نے ان سے پوچھا: اے زید! آپ ﷺ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ ﷺ کی بیویاں آپ ﷺ کے اہل بیت میں شامل نہیں؟ فرمایا: ”آپ ﷺ کی بیویاں بھی آپ ﷺ کے اہل بیت میں شامل ہیں، لیکن یہاں مراد آپ ﷺ کے اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ ﷺ کے بعد صدقہ حرام کیا گیا۔“ پوچھا: وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”وہ آل علی، آل جعفر، آل عباس اور آل عقیل ہیں۔“ پوچھا گیا: کیا ان سب پر صدقہ حرام کیا گیا؟ فرمایا: ”ہاں۔“