حدیث نمبر: 50
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: خَرَجَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ فِي مَشْهَدٍ لَهُمْ، فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ أَصْلَعَ، أَعْسَرَ أَيْسَرَ، قَدْ أَشْرَفَ فَوْقَ النَّاسِ بِذِرَاعٍ عَلَيْهِ إِزَارٌ غَلِيظٌ وَبُرْدُ قَطْرٍ، وَهُوَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَاجِرُوا، وَلَا تَهْجُرُوا، وَلَا يَحْذِفَنَّ أَحَدُكُمُ الْأَرْنَبَ بِعَصَاهُ أَوْ بِحَجَرٍ فَيَأْكُلَهَا، وَلْيُذَكِ لَكُمُ الْأَسَلُ وَالرِّمَاحُ وَالنَّبْلُ» فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
ترجمہ

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: مدینہ کے لوگ ایک اجتماع کے لیے نکلے، تو میں نے ایک گنجے، دونوں ہاتھوں سے کام لینے والے آدمی کو دیکھا جو لوگوں سے ایک بازو اونچا نمایاں تھا، اس نے موٹا تہبند اور دھاری دار چادر پہن رکھی تھی، اور وہ کہہ رہا تھا: ”اے لوگو! ہجرت کرو، اور دین سے دور نہ ہو، اور تم میں سے کوئی خرگوش کو لاٹھی یا پتھر مار کر بغیر ذبح کیے نہ کھائے، بلکہ اسے تیر، نیزے یا بھالے سے ذبح کرو۔“ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ عمر بن خطاب ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 50
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 65، حدیث 51