حدیث نمبر: 49
أَخْبَرَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، قَالَ: «كُنْتُ أَنْشُدُهُ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا أَعْرِفُ أَصْحَابَهُ، حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ بَعِيدٌ مَا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ أَصْلَعُ» فَقِيلَ لِي: اسْكُتِ اسْكُتْ. فَقُلْتُ: «وَاثُكْلَاهُ، مِنْ هَذَا الَّذِي أَسْكُتُ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» فَقِيلَ لِي: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
ترجمہ

سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کو اشعار سنا رہا تھا اور میں آپ ﷺ کے صحابہ کو نہیں پہچانتا تھا، یہاں تک کہ ایک ایسا آدمی آیا جس کے کندھے کشادہ اور سر گنجا تھا، تو مجھے کہا گیا: چپ ہو جاؤ، چپ ہو جاؤ۔ میں نے کہا: ”ہائے افسوس! یہ کون ہے جس کے لیے مجھے نبی کریم ﷺ کے پاس چپ کرایا جا رہا ہے؟“ تو مجھے بتایا گیا: یہ عمر بن خطاب ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 49
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 65، حدیث 50