حدیث نمبر: 4967
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا كَامِلُ أَبُو الْعَلَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى غَدِيرِ خُمٍّ أَمَرَ بِدُوحٍ فَكُسِحَ فِي يَوْمٍ مَا أَتَى عَلَيْنَا يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ حُرًّا مِنْهُ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يُبْعَثْ نَبِيٌّ قَطُّ إِلَّا عَاشَ نِصْفَ مَا عَاشَ الَّذِي كَانَ قَبْلَهُ، وَإِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ كِتَابَ اللهِ» ثُمَّ قَامَ وَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ أَوْلَى بِكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ»
ترجمہ

یحییٰ بن جعدہ، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ غدیر خم پہنچے، آپ ﷺ نے (درختوں کے نیچے) صفائی کا حکم دیا، اس دن سے زیادہ گرم دن ہم پر کبھی نہیں آیا تھا۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اے لوگو! کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا مگر یہ کہ وہ اپنے سے پہلے نبی کی نصف عمر جیا، اور قریب ہے کہ مجھے بلایا جائے اور میں جواب دوں، اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب۔“ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہاری جانوں پر تم سے زیادہ حق دار کون ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا: ”جس کا میں مولیٰ ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4967
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 171، حدیث 4986