المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد خير الحضرمي، عن زيد بن أرقم باب: عبدخیر حضرمی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ صَالِحٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْيَمَنِ فَأُتِيَ بِامْرَأَةٍ وَطِئَهَا ثَلَاثَةٌ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلَ اثْنَيْنِ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا الْوَلِيدِ؟ فَلَمْ يُقِرَّا، ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلِيدِ؟ ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ، حَتَّى فَرَغَ، فَسَأَلَ اثْنَيْنِ عَنْ وَاحِدٍ، فَلَمْ يُقِرُّوا فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَلْزَمَ الْوَلَدَ الَّذِي خَرَجَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ "عبدخیر حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے کہ ان کے پاس ایک عورت لائی گئی جس سے تین آدمیوں نے ایک ہی طہر میں تعلق قائم کیا تھا۔ آپ نے دو سے پوچھا: کیا تم اس بچے کا اقرار اس (تیسرے) کے لیے کرتے ہو؟ تو انہوں نے اقرار نہ کیا، پھر دو سے پوچھا: کیا تم اس کے لیے بچے کا اقرار کرتے ہو؟ پھر اسی طرح باری باری دو دو سے پوچھتے رہے یہاں تک کہ سب سے پوچھ لیا، تو انہوں نے اقرار نہ کیا۔ چنانچہ آپ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا اور بچہ اسی کا قرار دیا جس کے نام قرعہ نکلا، اور باقی دو کی دیت کے دو تہائی حصے اس پر لازم قرار دیے۔ یہ معاملہ نبی کریم ﷺ تک پہنچایا گیا تو آپ ﷺ اس قدر ہنسے کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔