المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الطفيل عامر بن واثلة، عن زيد بن أرقم باب: ابوطفیل عامر بن واثلہ کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ، ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو صُهَيْبٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُحْفَةِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَا أَجِدُ لِنَبِيٍّ إِلَّا نِصْفَ عُمُرِ الَّذِي قَبْلَهُ، وَإِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبُ، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟» قَالُوا: نَصَحْتَ قَالَ: «أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقُّ وَأَنَّ الْبَعْثَ بَعْدَ الْمَوْتِ حَقٌّ؟» قَالُوا: نَشْهَدُ، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَأَنَا أَشْهَدُ مَعَكُمُ» ثُمَّ قَالَ: «أَلَا تَسْمَعُونَ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنِّي فَرْطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَأَنْتُمْ وَارِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَإِنَّ عُرْضَهُ أَبْعَدُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَبُصْرَى، فِيهِ أَقْدَاحٌ عَدَدَ النُّجُومِ مِنْ فِضَّةٍ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِي الثَّقَلَيْنِ؟» فَنَادَى مُنَادٍ: وَمَا الثَّقَلَانِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «كِتَابُ اللهِ طَرَفٌ بِيَدِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَطَرَفٌ بِأَيْدِيكُمْ فَاسْتَمْسِكُوا بِهِ لَا تَضِلُّوا، وَالْآخَرَ عِتْرَتِي، وَإِنَّ اللَّطِيفَ الْخَبِيرَ نَبَّأَنِي أَنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَسَأَلْتُ ذَلِكَ لَهُمَا رَبِّي، فَلَا تَقْدُمُوهُمَا فَتَهْلَكُوا، وَلَا تَقْصُرُوا عَنْهُمَا فَتَهْلَكُوا، وَلَا تُعَلِّمُوهُمْ فَإِنَّهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ» ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: «مَنْ كُنْتُ أَوْلَى بِهِ مِنْ نَفْسِي فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ، اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ جُحفہ کے دن (سفر میں) اترے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”میں کسی نبی کو نہیں پاتا مگر یہ کہ اس کی عمر اپنے سے پہلے نبی کی نصف عمر کے برابر ہوتی ہے، اور قریب ہے کہ مجھے بلایا جائے اور میں جواب دوں، تو تم کیا کہو گے؟“ صحابہ نے عرض کیا: آپ نے خیرخواہی کی۔ فرمایا: ”کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اور جنت حق ہے اور جہنم حق ہے اور موت کے بعد اٹھایا جانا حق ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: ہم گواہی دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر سینے پر رکھے، پھر فرمایا: ”اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہی دیتا ہوں۔“ پھر فرمایا: ”کیا تم سن رہے ہو؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: ”بیشک میں حوض پر تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں اور تم حوض پر مجھ سے آ ملو گے، اور اس کی چوڑائی صنعاء اور بُصریٰ کے درمیان کی مسافت جتنی ہے، اس میں ستاروں کی تعداد کے برابر چاندی کے پیالے ہیں۔ سو دیکھو، تم میرے بعد دو بھاری امانتوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو؟“ ایک پکارنے والے نے آواز دی: یا رسول اللہ! وہ دو بھاری امانتیں کیا ہیں؟ فرمایا: ”اللہ کی کتاب، جس کا ایک سرا اللہ عزوجل کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں، اسے مضبوطی سے تھامے رکھو تاکہ گمراہ نہ ہو، اور دوسری میری عترت، یعنی اہل بیت۔ اور بیشک باریک بین، خبردار (اللہ) نے مجھے بتایا ہے کہ یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے آ ملیں، اور میں نے اپنے رب سے ان دونوں کے لیے یہی دعا کی ہے۔ سو ان سے آگے مت بڑھنا کہ ہلاک ہو جاؤ، اور نہ ان سے پیچھے رہنا کہ ہلاک ہو جاؤ، اور انہیں مت سکھاؤ کیونکہ وہ تم سے زیادہ جاننے والے ہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”جس کا میں اس کی اپنی جان سے زیادہ حقدار ہوں، اس کے یہ (علی) ولی ہیں۔ اے اللہ! جو ان سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ، اور جو ان سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔“