المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن زيد بن ثابت باب: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 4907
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلٍ الْعَسْكَرِيُّ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " كُنْتُ أَكْتُبُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي لَوَاضِعٌ الْقَلَمَ عَلَى أُذُنِي إِذْ أُمِرَ بِالْقِتَالِ إِذْ جَاءَ أَعْمَى فَقَالَ: كَيْفَ بِي وَأَنَا ذَاهِبُ الْبَصَرِ؟ فَنَزَلَتْ {لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ} [الفتح: ١٧] "ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے (وحی) لکھا کرتا تھا، اور ایک دن میں نے قلم اپنے کان پر رکھا ہوا تھا کہ جہاد کا حکم نازل ہوا، اتنے میں ایک نابینا شخص آیا اور کہنے لگا: میرے بارے میں کیا حکم ہے، میں تو بینائی سے محروم ہوں؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”نابینا پر کوئی حرج نہیں“ [سورۃ الفتح: 17]۔