المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
وهب أبو محمد، عن زيد بن ثابت باب: وہب ابومحمد کی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثُ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا مَيْمُونُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَضَّرَ اللهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي، فَحَمَلَهَا إِلَى غَيْرِهِ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَرَبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ»
" ثَلَاثٌ لَا يَغُلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالنَّصِيحَةُ لِلْأَئِمَّةِ، وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ نَزَعَ اللهُ الْغِنَى مِنْ قَلْبِهِ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وشَتَّتَ اللهُ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا رُزِقَ، وَمَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ هَمَّهَ جَعَلَ اللهُ الْغِنَى فِي قَلْبِهِ، وَنَزَعَ فَقْرَهُ مِنْ بَيْنِ عَيْنَيْهِ، وَكَفَّ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِي رَاغِمَةٌ "سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس بندے کو تروتازہ رکھے جس نے میری بات سنی پھر اسے آگے پہنچا دیا، کیونکہ بسا اوقات علم کا حامل اپنے سے بڑے فقیہ تک اسے پہنچا دیتا ہے، اور بسا اوقات علم کا حامل خود فقیہ نہیں ہوتا۔“
”تین چیزیں ایسی ہیں جن میں کسی مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا: اللہ کے لیے عمل کو خالص رکھنا، حکمرانوں کی خیرخواہی کرنا، اور جماعت کو لازم پکڑنا، کیونکہ ان کی دعا (سب کو) اپنے پیچھے سے گھیرے رہتی ہے۔ جس کی فکر دنیا ہو، اللہ اس کے دل سے بے نیازی نکال دیتا ہے اور اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے، اور اس پر اس کا کاروبار بکھیر دیتا ہے، اور دنیا میں سے اسے صرف وہی ملتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھا ہے۔ اور جس کی فکر آخرت ہو، اللہ اس کے دل میں بے نیازی ڈال دیتا ہے اور اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹا دیتا ہے، اور اس کا کاروبار سمیٹ دیتا ہے، اور دنیا خود ذلیل ہو کر اس کے پاس آتی ہے۔“