المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن زيد بن ثابت، عن أبيه باب: سلیمان بن زید بن ثابت کی اپنے والد سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ خَالِي عَبْدِ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنِي عَقِيلُ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ أَخَذَتْهُ بُرَحَاءٌ شَدِيدَةٌ وَعَرِقَ عَرَقًا شَدِيدًا مِثْلَ الْجُمَانِ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَكُنْتُ أَدْخَلُ عَلَيْهِ بِقِطْعَةِ الْقَتَبِ أَوْ كِسْرَةٍ فَأَكْتُبُ وَهُوَ يُمْلِي عَلَيَّ، فَمَا أَفْرَغُ حَتَّى تَكَادَ رِجْلَيَّ تَنْكَسِرُ مِنْ ثِقَلِ الْقُرْآنِ حَتَّى أَقُولَ لَا أَمْشِي عَلَى رِجْلَيَّ أَبَدًا، فَإِذَا فَرَغْتُ قَالَ: «اقْرَأْهُ» فَإِنْ كَانَ فِيهِ سَقْطٌ أَقَامَهُ، ثُمَّ أَخْرَجُ بِهِ إِلَى النَّاسِسیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے لیے وحی لکھا کرتا تھا، اور جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ کو شدید تکلیف لاحق ہو جاتی اور موتیوں جیسا شدید پسینہ آتا، پھر یہ کیفیت دور ہو جاتی۔ میں کتابت کے لیے کجاوے کا ایک ٹکڑا یا کوئی ٹکڑا لے کر آپ ﷺ کے پاس جاتا، اور لکھتا جبکہ آپ ﷺ مجھے لکھواتے، ابھی میں فارغ بھی نہ ہوتا کہ قرآن کی گرانی سے میرے پاؤں ٹوٹنے کے قریب ہو جاتے، یہاں تک کہ میں کہتا: اب میں کبھی اپنے پاؤں پر نہیں چل سکوں گا۔ جب میں فارغ ہو جاتا تو آپ ﷺ فرماتے: ”اسے پڑھو۔“ اگر اس میں کوئی کمی ہوتی تو آپ ﷺ اسے درست کروا دیتے، پھر میں اسے لے کر لوگوں کے پاس نکلتا۔