المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن زيد بن ثابت، عن أبيه باب: سلیمان بن زید بن ثابت کی اپنے والد سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا فَرْوَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ، بِالْأَبْوَاءِ، ثنا هَارُونُ بْنُ يَحْيَى الْحَاطِبِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَمِّهِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: غَدَوْنَا يَوْمًا غُدْوَةً مِنَ الْغَدَوَاتِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كُنَّا فِي مَجَمْعِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَبَصُرْنَا بِأَعْرَابِيٍّ أَخَذَ بِخِطَامِ بَعِيرِهِ حَتَّى وَقَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حَوْلَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟» قَالَ: وَرَغَا الْبَعِيرُ، وَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ حَرَسِيٌّ، فَقَالَ الْحَرَسِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا الْأَعْرَابِيُّ سَرَقَ الْبَعِيرَ، فَرَغَا الْبَعِيرُ سَاعَةً وحَنَّ، فَأَنْصَتَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ رُغَاءَهُ وحَنِينَهُ، فَلَمَّا هَدَأَ الْبَعِيرُ أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحَرَسِيِّ فَقَالَ: «انْصَرَفْ عَنْهُ فَإِنَّ الْبَعِيرَ شَهِدَ عَلَيْكَ أَنَّكَ كَاذِبٌ» فَانْصَرَفَ الْحَرَسِيُّ، وَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ: «أَيُّ شَيْءٍ قُلْتَ حِينَ جِئْتَنِي؟» قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتِ وَأُمِّي اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا تَبْقَى صَلَاةٌ، اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا تَبْقَى بَرَكَةٌ، اللهُمَّ سَلِّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا يَبْقَى سَلَّامٌ، اللهُمَّ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا حَتَّى لَا تَبْقَى رَحْمَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ جَلَّ وَعَزَّ أَبْدَاهَا لِي وَالْبَعِيرُ يَنْطِقُ بِعُذْرِهِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ قَدْ سَدُّوا الْأُفُقَ»… اس کے کارواں کے ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کے پاس رک گیا، جبکہ ہم آپ ﷺ کے ارد گرد تھے۔ اس نے کہا: السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ نبی کریم ﷺ نے جواب دیا، پھر فرمایا: ”تمہاری صبح کیسی گزری؟“ کہتے ہیں: اتنے میں اونٹ نے آواز نکالی، اور ایک آدمی آیا جو پہرے دار جیسا لگتا تھا، اس پہرے دار نے کہا: یا رسول اللہ! اس اعرابی نے یہ اونٹ چرایا ہے۔ اونٹ کچھ دیر آواز نکالتا اور بلبلاتا رہا، رسول اللہ ﷺ خاموش ہو کر اس کی آواز اور بلبلاہٹ سنتے رہے۔ جب اونٹ خاموش ہوا تو نبی کریم ﷺ نے پہرے دار کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اس سے ہٹ جاؤ، اس اونٹ نے گواہی دی ہے کہ تم جھوٹے ہو۔“ پہرے دار چلا گیا، اور نبی کریم ﷺ نے اعرابی کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم نے میرے پاس آتے وقت کیا کہا تھا؟“ اس نے کہا: میں نے کہا تھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! اے اللہ! محمد ﷺ پر اتنی رحمت بھیج کہ کوئی رحمت باقی نہ رہے، اے اللہ! محمد ﷺ پر اتنی برکت نازل فرما کہ کوئی برکت باقی نہ رہے، اے اللہ! محمد ﷺ پر اتنی سلامتی بھیج کہ کوئی سلامتی باقی نہ رہے، اے اللہ! محمد ﷺ پر اتنی رحم فرما کہ کوئی رحمت باقی نہ رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ جل و عز نے یہ بات مجھ پر ظاہر کر دی، اور اونٹ نے اس کی بےگناہی کی گواہی دی، اور فرشتوں نے آسمان کا کنارہ کنارہ بھر دیا۔“