❮
❯
حدیث نمبر: 4791
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْغَطَفَانِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ قَوْمٍ اخْتَلَفُوا فِي صَلَاةِ الْوُسْطَى، وَأَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، فَبَعَثُونِي إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، لِأَسْأَلَهُ عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَالنَّاسُ فِي قَائِلَتِهِمْ وَأَسْوَاقِهِمْ، فَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الصَّفُّ وَالصَّفُّ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ بُيُوتَهُمْ»
ترجمہ

سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں کچھ لوگوں کے ساتھ تھا جن کا صلاۃ الوسطیٰ (درمیانی نماز) کے بارے میں اختلاف ہو گیا، اور میں ان میں سب سے چھوٹا تھا، تو انہوں نے مجھے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے صلاۃ الوسطیٰ کے بارے میں پوچھوں۔ کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا اور پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز سخت دوپہر کی گرمی میں پڑھایا کرتے تھے جبکہ لوگ اپنی قیلولہ اور اپنے بازاروں میں مصروف ہوتے، اور رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صرف ایک یا دو صفیں ہی نماز پڑھتی تھیں، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”نمازوں کی حفاظت کرو، خصوصاً درمیانی نماز کی، اور اللہ کے لیے عاجزی سے کھڑے ہو جاؤ“ [سورۃ البقرہ: 238]۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ لوگ اس سے باز آ جائیں، ورنہ میں ان کے گھر جلا دوں گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4791
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 121، حدیث 4808