المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زيد بن ثابت الأنصاري يكنى أبا سعيد ويقال أبو خارجة باب: سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ، کنیت ابوسعید تھی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابوخارجہ تھی
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْتَبَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْأَرْقَمِ، فَكَانَ يَكْتُبُ إِلَى الْمُلُوكِ فَبَلَغَ مِنْ أَمَانَتِهِ عَنْدَهُ أَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ إِلَى بَعْضِ الْمُلُوكِ، فَيَكْتُبُ ثُمَّ يَأْمُرُهُ أَنْ يُطَبِّقَهُ ثُمَّ يَخْتِمُ لَا يَقْرَأُهُ لِأَمانِتِهِ عَنْدَهُ، واسْتَكْتَبَ أَيْضًا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَكَانَ يَكْتُبُ الْوَحْيَ، وَيَكْتُبُ إِلَى الْمُلُوكِ أَيْضًا، وَكَانَ إِذَا غَابَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَرْقَمِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَاحْتَاجَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى بَعْضِ أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ وَالْمُلُوكِ، وَيَكْتُبَ لِإِنْسَانٍ كِتَابًا يَقْطَعُهُ أَمَرَ مَنْ حَضَرَ أَنْ يَكْتُبَ، وَقَدْ كَتَبَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَغَيْرُهُمْ مِمَّنْ قَدْ سُمَيَّ مِنَ الْعَرَبِ»محمد بن جعفر بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو اپنا کاتب مقرر کیا، وہ بادشاہوں کو خطوط لکھتے تھے، ان کی امانت داری کا یہ حال تھا کہ جب وہ کسی بادشاہ کو خط لکھتے تو آپ ﷺ انہیں حکم دیتے کہ اسے تہہ کر کے مہر لگا دیں، اور آپ ﷺ خود اسے دوبارہ نہیں پڑھتے تھے، اپنے پاس ان کی امانت داری کی وجہ سے۔ اور آپ ﷺ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بھی اپنا کاتب مقرر کیا، وہ وحی بھی لکھتے تھے اور بادشاہوں کو بھی خطوط لکھتے تھے۔ اور جب عبداللہ بن ارقم اور زید بن ثابت دونوں موجود نہ ہوتے اور آپ ﷺ کو کسی لشکر کے امیر یا بادشاہ کو خط لکھنے کی ضرورت پڑتی، یا کسی شخص کے لیے کوئی تحریر لکھوانی ہوتی، تو جو بھی موجود ہوتا اسے لکھنے کا حکم دے دیتے۔ آپ ﷺ کے لیے سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا زید بن ثابت، مغیرہ بن شعبہ، معاویہ بن ابی سفیان اور خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہم اور دیگر معروف عرب صحابہ نے بھی لکھا۔